یونیورسل سروس فنڈ کی جانب سے شائع کیا گیا اشتہار غیر قانونی ہے؟
کچھ کہنے سے قبل آپ پہلے یہ اشتہار ملاحظہ کیجئے (بڑی تصویر دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں) ۔
اب کچھ اس اشتہار کے بارے میں،یونیورسل سروس فنڈ کا یہ اشتہار گذشتہ ماہ ، پاکستان کے بہت سے اخبارات اور میگزین میں شائع ہوا۔ گو کہ اس اشتہار بازی کے حوالے سے 120 ملین روپے کے ضیائع پر پہلے ہی ایک سکینڈل موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ لیکن میں اس بات سے قطع نظر اپنے قارئین کی توجہ ایک اور جانب مبذول کروانا چاہوں گا۔
یو ایس ایف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی کاوشوں اور کارکردگی کی جتنی چاہے تشہیر کرے کیونکہ وہ ایک لحاظ سے ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہے۔ گو کہ کمپنیز آرڈیننس 1984 کے سیکشن 42 کے تحت وہ پرائیویٹ لمیٹڈ کا لفظ استعمال نہیں کرسکتے۔
اشتہار میں بیان کیے گئے اعداد و شمار بالکل درست ہونگے ، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ، اصل بات یہ ہے کہ اشتہار میں بانی پاکستان قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ سیاسی شخصیات کی تصاویر چھاپنا قانوناً غلط ہے۔
ایک پرائیویٹ کمپنی اپنے اشتہارات میں سیاسی شخصیات کی تصاویر کیوں چھاپ رہی ہے؟ جبکہ اسکا حکومت یا سیاسی جماعت سے کوئی واسطہ نہیں؟ آپ میں سے کوئی دوست یہ کہ سکتا ہے کہ شاید یو ایس ایف کا مقصد یہ تھا کہ اپنی ان کامیابیوں میں حکمران جماعت کو بھی شریک کرے اور انکا شکریہ بھی ادا کرے ۔ لیکن یہ بات تو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قوانین کے بالکل برعکس ہے۔ جس کے مطابق کوئی بھی غیر ملکی حکومت، کمپنی یا مقامی کمپنی ،فرم یا پروفیشنل ایسوسی ایشن کسی بھی سیاسی جماعت کی امداد نہیں کرسکتے۔
اس حوالے سے جب میں نے الیکشن کمیشن کے ایک نمائیندہ سے گفتگو کی تو انہوں نے اس بات کی تائید کی ، کہ یہ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اس پر متعلقہ ادارے کی خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتے ہے۔
یوایس ایف کے نمائیندہ کے مطابق انہیں اس قانون کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔لیکن اب کمپنی بورڈ کو اس سے آگاہ کر دیا جائے گا اور آئیندہ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا۔
عام طور پر حکومت کی جانب سے یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ یونیورسل سروس فند حکومت کے زیر انتظام کام کرتا ہے، اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر پاکستان میں وہ واحد شعبہ ہے جہاں صحیح معنوں میں ترقی ہورہی ہے۔ گوکہ اس میں حکومت کا کوئی حصہ نہیں ، کیونکہ یہ پیسہ حکومت کی جیب سے نہیں جاتا بلکہ ٹیلی کام کمپنیاں پاکستان کے دور دراز اور غیر ترقی یافتہ علاقوں میں بہتری کے لیے یہ رقم فراہم کرتے ہیں۔
لہذا وزیر اعظم پاکستان کو یوایس ایف کی کامیابیوں پر اپنا ٹھپہ لگانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اس میں انکا کوئی کردار نہیں۔ ان سے تو اس بات کی پوچھ گچھ ہونی چاہیے کہ وہ مختلف ترقیاتی پراجیکٹس کے حوالے سے ہونے والے اجلاسوں میں کیوں شرکت نہیں کرتے ۔ جس کی وجہ سے ملک و قوم کو نقصان ہورہا ہے؟
ترجمہ و کتابت: محمد زھیر چوہان
اس تحریر کو انگریزی میں پڑھنے کے لئےیہاں کلککیجیئے۔
-
لگتا ہے گورنمنٹ نے تشہیر کے لئے فنڈنگ کی ہے
-
kamingi ki intha hy bygarat pakistan ka byragarg kar rahy hain
Comments