پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے چئیرمین پی ٹی اے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی ہدایت
تھری جی لائسنس کی نیلامی میں تاخیر اور دیگر کیسز کی بناء پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے آج وزیر داخلہ کو چیرمین پی ٹی اے ڈاکٹر محمد یاسین اور ٹیلی کام اتھارٹی کے دیگر ممبران کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذراع نے پروپاکستانی کو بتایا کہ چیرمین پی ٹی اے جنہیں ان کی مدت ملازمت ختم ہونے سے قبل جبری رخصت پر بھیجا جا رہا ہے اور کل انکی ملازمت کا آخری دن ہوگا ۔ تھری جی لائسنس کی نیلامی میں تاخیر اور فنڈز وصولی میں بے ضابتگیوں کی وجہ سے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔اس حوالے سے ندیم افضل چن کی سربراہی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی میٹنگ آج اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں مزید نئے کیسز بھی پیش کیے گئے۔
اس میٹنگ میں گرے ٹریفک ، فنڈز وصولیوں میں بے ضابتگی کے مسائل پر بحث کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر محمد یاسین کی مدت ملازمت اگلے دو ہفتےکے دوران ختم ہورہی ہے اور خدشہ ہے کہ وہ آسٹریلیا چلے جائیں گے کیونکہ انکے پاس وہاں کی شہریت بھی ہے لہذا کمیٹی کے چیرمین نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ انکا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔
چئیرمین پی ٹی اے کی مدت ملازمت 24 جولائی 2012 کو ختم ہوجائے گی، پچھلے چندہ ماہ کے دوران تھری جی لائسنس کی نیلامی اور دیگر معاملات پر چئیرمین پی ٹی اے اور حکومت میں کافی تناؤ دیکھا جارہا ہے۔
خیال کیا جارہا ہے کہ منسٹری آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ممبر لیگل کامران علی آئیندہ چئیرمین ہوسکتے ہیں جنہیں صدر صاحب کی بھی خاص حمایت حاصل ہے۔ٹیلی کام کے شعبہ میں تجربہ کی باعث کامران علی حکومت کی جانب سے آسان ترین انتخاب ہونگے۔
اس تحریر کو انگریزی میں پڑھنے کے لئےیہاں کلککیجیئے۔
-
السلام علیکم ۔
چیئرمین پی ٹی اے بھی دوہری شہریت کے مالک ہیں۔ واہ سبحان اللہ۔
ان جیسے لوگوں سے ہمیں کب چھٹکارا ملے گا ۔
Comments