Image Image Image Image Image Image Image Image Image Image
Scroll to top

Top

پی ٹی اے غیر فعال، ملازمین کو اگلے ماہ شاید تنخواہ بھی نہ ملے

PTA-logo2

پاکستان میں کئی ارب ڈالرز کی ٹیلی کام انڈسٹری کو سنبھالنے کا ذمہ دار ادارہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی قواعد بنانے اور ٹیلی کام پالیسیاں لاگو کرنے کے حوالے سے مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے ، وجہ ممبرز اور چیئرمین کی عدم تقرری۔

مالی سال 2011-12ء کے لیے مختص کیےگئے تمام تر فنڈز ختم ہونے کے بعد اب اتھارٹی مالی سال 2012-13ء کے لیے بجٹ بھی منظور کرانے کے قابل نہیں اس لیے خطرہ ہے کہ اگلے ماہ ملازمین کو تنخواہ بھی نہیں ملے گی۔

پی ٹی اے قوانین کے تحت اتھارٹی کا بجٹ صرف ممبرز اور چیئرمین ہی منظور کر سکتے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی اے کے ڈی جی فنانس بجٹ کی منظوری کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں، جس کے لیے انہوں نے کیبنٹ ڈویژن کو تمام تر تفصیلات بھیجیں ہیں، البتہ متعدد قانونی تقاضے اس کی منظوری میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور نتیجہ اگلے ماہ عملے کی تنخواہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ چیئرمین اور ممبرز کی عدم موجودگی کے باعث ادارہ مختلف حوالوں سے فعال نہیں ہے جس میں انڈسٹری ریگویلشنز، انفورسمنٹ وغیرہ شامل ہیں ۔

عملے کو بلز، روزمرہ اخراجات، طبی سہولیات اور متعدد دیگر الاؤنسز اور ادائیگیاں بھی نہیں کی گئیں۔ واضح رہے کہ پی ٹی اے میں تمام اقسام کے بلز صرف ممبر فنانس کی منظوری سےکلیئر ہوتے ہیں۔

داخلی طور پر غیر فعال ہونے کے علاوہ پی ٹی اے مجموعی طور پر انڈسٹری کے مسائل کوحل کرنے میں بھی ناکام ہے۔

واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی اے کا عہدہ 15 جنوری 2013ء کو فاروق اعوان کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ہٹائے جانے کے بعد سے خالی ہے۔ جبکہ ممبر فنانس نصر الکریم غزنوی نے 24 فروری کو اپنی مدت ملازمت مکمل کی اور ممبر ٹیکنیکل ڈاکٹر خاور صدیق کھوکھر 16 مارچ 2013ء کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

اس کے بعد سے حکومت پاکستان ان عہدوں پر تقرریوں کی کوشش کر رہی ہے، جس کے لیے وہ تین مرتبہ اخبارات میں اشتہارات بھی شایع کر چکی ہے۔ لیکن تمام ہی اشتہارات کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور بالآخر کالعدم قرار دے دیا گیا کیونکہ حکومت اشتہارات میں ملازمت کے لیے درکار اہلیت کو مستقل تبدیل کرتی رہی ہے تاکہ اپنے منظورنظر اور پسندیدہ افراد کو جگہ دی جا سکے۔

پی ٹی اے ممبرز کی تقرری کے لیے ہونے والے واقعات کی ایک فہرست یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

مارکیٹ کی اعلیٰ شخصیات نے اسے حکومتی نااہلی اور اس کی بدعنوانی قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کی ذمہ داری شخصیات کو، جو پی ٹی اے ممبرز اور چیئرمین کی تقرری میں تاخیر کا سبب بن رہی ہیں، کو عدالت میں گھسیٹا جانا چاہیے اور ان پر جرمانے لگائے جائیں یا قید کی سزائیں دی جائیں۔