Lahore-Pindi GT Road Closed for Traffic Due to Smog

As smog continues to envelop Punjab and other parts of the country, a section of GT Road was closed for traffic on Wednesday.

Moreover, timings for schools have been pushed forward due to visibility issues and health issues.

According to the Punjab Education Minister Rana Mashhood, parents have been facing difficulty in dropping their children to school, which is why timings have been changed from 8:30am to 9am. He added action would be taken against those not implementing the new schedule.

However, All Pakistan Private Schools’ Federation has refused to implement the new schedule. As per the federation president, Kashif Mirza, changing school timings would not help as the intensity of smog was the same throughout the day. He added that the government should take steps to control smog instead of changing schedules.

On the other hand, to avoid accidents, the GT Road was closed between Lahore and Rawalpindi, while traffic flow was also stopped on sections of the motorway, according to a motorway police spokesperson.

Train schedules have also been affected amid low visibility caused by smog. The trains have been arriving four to 13 hours later than their scheduled time.


Read More: PIA Publishes Schedule of Delayed & Canceled Flights for Next 2 Days


Flight disruptions have also been reported from several cities of the province.

So far, accidents caused due to smog have claimed many lives and left a number of people injured in Punjab.


  • *سموگ کیا ہے*

    *القرآن کیا کہتا ہے*

    سوشل میڈیا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بتائی جارہی ہیں.

    کوئی کہہ رہا ہے یہ انڈیا والوں نے فصلوں کی باقیات کو آگ لگائی ہوئی ہے جس کے باعث ہے. کوئی اسے گلوبل وارمنگ کا شاخسانہ کہہ رہا ہے.

    اور کوئی اسے بڑھتی ہوئی انڈسٹریل آلودگی.

    لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہہ جنگ عظیم دوم ویت نام میں چلنے والے نیپام بم (ایسا بم جو وار ہیڈ کے پانچ سو میٹر میں آگ لگا سکتا تھا) ایسی آلودگی اور سموگ کیوں نہ پھیلا سکا.

    *اندازہ کیجیے* پانی کا نقطہ کھولاؤ 100 درجہ حرارت ہے جبکہ نیپام بم 800 سے 1200 درجہ حرارت کی آگ برساتا اور آگ لگنے کی رفتار 70 میل فی گھنٹہ جس کی لپیٹ میں آنے والے انسان جانور اور املاک منٹوں میں راکھ اور دھوؤیں کا ڈھیر ہو جاتے. نیپام بم کا وہ دھواں جس میں کاربن مونو آکسائیڈ اور نفتھینک پلمیٹک تیزآب اور بہت سے آگ پکڑنے والے زہریلے مادے ہوتے تھے ایسا سموگ پیدا نہ کر سکے.

    *کیوں*

    آجکل میڈیا پر لوگ دنیاوی چیزوں سے اسے تشبیع دے کر ڈرا رہے ہیں مگر افسوس صد افسوس ہمیں *آلودگی* اور *انڈیا* سے تو ڈرایا جا رہا ہے.

    مگر *اللہ* اور اس کے فرامین کے بارے ہم نابلد ہیں.

    ہم قرآن کو بھلا چکے ہیں ورنہ آج ہم کو انڈیا کی لگائی آگ سے زیادہ فکر اللہ کی طرف سے دہکائی گئی جہنم کی ہوتی.

    اللہ نے سورۃ الدخان میں فرمایا.

    فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ (10)

    سو اس دن کا انتظار کیجیے کہ آسمان ظاہر دھواں لائے۔

    يَغْشَى النَّاسَ ۖ هٰذَا عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ (11)

    جو لوگوں کو ڈھانپ لے، یہی دردناک عذاب ہے۔

    *یاد کرو* گزشتہ سال 2016 بھی یہی عذاب تھا مگر کچھ عرصہ کیلئے ٹال دیا گیا. اور اس عذاب میں بیماریاں اور حادثات ہیں. تب بھی ہم نہیں سمجھ رہے.

    ارشاد باری تعالیٰ ہے..!

    اِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيْلًا ۚ اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَ (15)

    ہم اس عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹا دیں گے مگر تم پھر وہی کرنے والے ہو۔

    *اور غور کرو* آج پھر ہم اس عذاب میں کس طرح مبتلا ہو چکے ہیں. مگر پھر بھی ہمیں ماسک لگا کر بچ نکلنے کی فکر ہے نہ کہ اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے ڈھانپنے کی.

    ہو سکے تو اپنا محاسبہ کریں اور تمام اہلِ اسلام کیلئے دعا کریں. اللہ سب کو ہدایت دے اور اہلِ اسلام کو پھر سے یکجا کر دے___Ameen

    ۔۔۔

    • I would like to have scientific approach rather than putting every issue to religion. Islam advices to make all your efforts to rectify the problem only then leave it to Allah.


  • >