Rupee Falls to a Historic Low of Rs. 148 Against the US Dollar

The value of the US dollar against the rupee has reached another all-time high, valuing around Rs. 148 in the interbank market.

The greenback has surged roughly by Rs.6.50 from yesterday’s Rs. 141.5, marking a historical high with perception well established in the forex market that the rupee will plunge further.

The drop in the rupee’s value comes a day after Prime Minister Imran Khan formed a committee to monitor devaluation of the local currency after it reached 147 in the open market. The premier had warned of strict action if anyone is found selling US dollar for over Rs. 144.


ALSO READ

Pakistani Rupee Crashes to Rs. 146 Against US Dollar


According to the experts, the depreciation in rupee was expected, as the government has decided to relinquish control over the inter-bank market under the conditions laid out by the International Monetary Fund (IMF) 39-month loan program worth $6 billion.

The IMF package contains the condition of a free float exchange rate under which the market forces decide the rupee-dollar rate instead of the government.


  • morning rate 141.50 then rise 146 then again to 148, in just 30 min might be less, and after 10 more minutes drops to 144.50,
    now present rate is 144.50

    • I have been trying to buy dollar for my US visit in June. I couldn’t find a single exchanger in Karachi selling below 150-152. Also, I dread about the impact of Rupee devaluation on my cost of M.S.

  • Government has made big mistakes but still 100 times better than AZ and nawaz…. country will suffer much more and if imran can pull this economy out of its black hole we will b thankful to him. To understand you need to understand economics

  • I don’t care if Dollar reach 200 because my PM is handsome man, have hole in his shirt, he won the 1992 world cup.

  • آئی ایم ایف مجبوری یا ایسٹ انڈیا کمپنی۔
    منیر احمد بلوچ عوام سے ایک سوال کرتا ہے ۔ فرض کریں اگر آپ کو پتہ چلے کہ وزیر اعظم عمران خان کو اپنے پانچ سالہ اقتدار میں زرداری اور نواز شریف حکومتوں کے دس برسوں میں پاکستان کی گردن پر لادے ہوئے اٹھاون ارب ڈالر میں سے اڑتیس ارب ڈالر قرض واپس کرنا ہے اڑتیس ارب ڈالر ضرب ایک سو چالیس روپے اور پھر یہ رقم روپوں میں بنے گی جس کو گننے کے لئے ایک عمر چاہئے ۔۔۔
    شاید کوئی شخص یقین کرنے کو تیار نہ ہو کہ اتنا پیسہ پاکستان نے اگلے پانچ سالوں میں واپس کرنا ہے جبکہ بیس ارب ڈالر اس کے بعد ہیں ۔ اگر یہ رقم پاکستان واپس نہیں کرتا تو کیا ہوگا؟
    جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی
    پشاور اسلام آباد موٹروے
    فیصل آباد پنڈی بھٹیاں موٹر وے
    اسلام آباد پشاور موٹروے
    اسلام آباد لاہور موٹر وے
    تمام ہائی ویز یعنی جی ٹی روڈ وغیرہ
    پاکستان ٹیلی ویژن
    ریڈیو پاکستان ۔ ۔۔ اور
    ان سب اداروں کی ملکیت کے تمام اثاثے
    سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب آئی ایم ایف کو گروی رکھ کے چلے گئے ہیں ۔۔۔اگر حکومت پاکستان یہ قرض واپس نہ کرے تو ورلڈ بنک ان قومی اثاثوں کو قرقی کرسکتا ہے ۔۔۔
    قرقی کرنے کا مطلب معلوم ہے کسی کو؟
    اگر آپ بنک کے پاس اپنا مکان گروی رکھ کے قرض لیں اور بنک کو قرض واپس نہ کریں تو بنک آپ کے مکان کی بولی لگوا کر کسی بھی شخص کو فروخت کردیتا ہے ۔۔
    دوسرے الفاظ میں یہ ادارے جن کا اوپر ذکر ہے ورلڈ بنک کو رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں بولی لگائے جاسکتے ہیں اور ہندوستان اسرائیل سمیت کوئی بھی ملک ان کو خرید سکتا ہے ۔۔
    آئی ایم ایف کے پاس جانے کی یہ مجبوری ہے ۔
    کچھ اور بھی ابھی سوالات ہیں
    آئی پی پیز پہ جو نواز شریف صاحب نے گیارہ سو اسی ارب روپے کا قرض چھوڑا ہے وہ عمران خان کیسے ادا کرے گا؟
    گیس کا ایک سو ستاون ارب روپیہ عمران خان کیسے ادا کرے گا؟
    پانچ برسوں کے لئے آئی ایم ایف سے لئے ہوئے اٹھائیس ارب ڈالر جو کہ متذکرہ بالا قرض اتارنے کے لئے لئے گئے تھے اور کہیں اور منتقل ہوگئے وہ عمران خان کہاں سے ادا کرے گا؟
    لیکن یہ ہم نے نہیں سوچنا کیونکہ یہ سوچنے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے ۔ ہاں یہ ہم ضرور سوچتے ہیں کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے حوالے کردیا گیا ہے ۔۔۔ پاکستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی بنا دی گئی ہے ۔
    ایک معلومات دیتا ہوں ۔۔۔ نئے گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر رضا باقر ہیں ۔ ان کا تعلق وہاڑی سے ہے ۔۔۔ ان کی آئی ایم ایف ملازمت کے دوران تنخواہ کم از کم پینتیس لاکھ روپے کے قریب تھی۔۔۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان ان کو سات سے دس لاکھ روپیہ تک ادا کرسکے گا۔۔ اتنے محب وطن ہم نہیں جتنے کچھ پاکستانی ہیں ۔۔ وہ پاکستان کے لئے آیا ہے ۔۔ پھر آئی ایم بنیادی طور پر ہے کیا ؟ اس کی تعریف پڑھیں ۔۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ایک ایسا ادارہ جس میں شامل امیر ممالک غریب ممالک کو آسان اقساط پر قرض فراہم کرتے ہیں اور ان کی معیشت کو بہتر بنانے کے اقدامات کرتے ہیں ۔ ان میں مسلمان ممالک بھی شامل ہیں ۔۔۔ پھر آئی ایم ایف میں ڈاکٹر باقر رضا جیسے کئی بڑے بڑے دماغ بڑی بڑی پوسٹوں پہ موجود ہیں جو محب وطن پاکستانی ہیں ۔ جن کا دل پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے ۔وہ اپنا باہر کا کمایا ہوا پاکستان لاتے ہیں شریف اور زرداری خاندان کی طرح پاکستان سے لوٹ کر باہر نہیں لے جاتے ۔ ۔۔ وہ سب پاکستانی پاکستان کو اس بحران سے نکالنے کے لئے کوشش کررہے ہیں ۔۔۔
    اور یہ پٹواری، بھٹواری ، فضلانڈوز ۔ ۔ بے عقل جاہل ان پڑھ ۔ ۔ الف کو لکیر پکارنے والے لکیر کے فقیر لوگ ۔ ۔۔ مُردوں کو زدندہ کہنے والے اور زندہ کو مردے بنا کے جیل کی کال کوٹھڑیوں میں دفن کرآنے والے ۔ ۔ ۔ ان کوکیا معلوم کہ پاکستان کیا ہے اور پاکستان کی اہمیت کیا ہے ؟ یہ بریانی کی پلیٹ پہ مرنے والے تھالی کے بیگن کیا جانیں معیشت کیا ہوتی ہے ؟ معیشت کے مسائل کیا ہوتے ہیں ۔۔۔ اور ان کو حل کیسے کرنا ہوتا ہے ؟۔۔۔
    پرانی کہاوت ہے کہ کوئی مسافر پردیسی کسی ویرانے مین بھٹکتا کسی جھونپڑی نما گھر کے دروازے پہ جا پہنچا ۔ ۔ ۔ اسے بھوک بھی لگی ہوئی تھی اور رات بھی گزارنا تھی ۔ ۔ کیا دیکھتا ہے کہ گھر کے والی کی بیوی دردِ زہ میں مبتلا ہے ۔۔۔جسے پیدائش میں مسلہ بنا ہوا ہے ۔۔۔ اس کے دماغ میں آئیڈیا آیا ۔۔۔ گھر کے مالک سے کہتا ہے کہ میں بہت پہنچا ہوا پیر ہوں ۔۔تعویز دیتا ہوں بچے کی پیدائش ہوجائے گی ۔۔لیکن بھوکا ہوں اور رات بھی رہنا ہے ۔۔ مالک نے آؤ بھگت کی ۔ اچھا بستر دیا ۔ کھانا دیا ۔ گدھے کو گھاس دیا ۔ ۔ جعلی پیر نے تعویز دیا اور ساتھ میں جنتر منتر پڑھنے لگا۔۔۔ عورت درد میں مبتلا تھی ۔۔ مالک پھر آیا ۔۔ پیر جی کوئی ھور دم کرو ۔ ۔ ۔
    پیر نے جنتر منتر پڑھنا شروع کیا اور کمرے کی طرف منہ کرکے پھونک دیا۔۔ اور کہا،۔،۔۔۔ لئے بھائی ۔۔۔ ھُن تیری بیوی دا ” اوڑا ” ٹھیک ہوجاسی ” بھلے وقتوں میں لیبر پین کو پنجابی میں اوڑا کہا جاتا تھا۔۔۔”
    جب شوہر کمرے سے نکل گیا تو جعلی پیر نے سرد رات میں رضائی اپنے اوپر لپیٹی اور یہ کہتے ہوئے سونے کی تیاری کرنے لگا کہ
    میری وی جاء بنڑ گئی
    تے میرے کھوتے دی جاء وی جاء بنڑ گئی
    تیری بیوی دا اوڑا ماریا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تے ۔۔۔
    میں تے لگا سونڑ ۔ ۔ ۔۔
    یہی کچھ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے پاکستان کے ساتھ کیا ہے ۔۔ کہ اپنا بھی پیٹ بھر لیا اور اپنے گدھوں کا بھی پیٹ بھر لیا۔۔ پاکستان کو لکھا ۔ ۔ ۔ پر اور خود آل اولاد کے ساتھ یورپ امریکہ چلے گئیے ۔
    تحریر افتخار احمد

    • Bhaijan mega scandals cases ka 1 week mai faisla karke agar aapke PM se nhe horaha mjhe PM lagado 1 week bhe nhe lagaonga…. Mtlb double shah na banay ek qarz utarne ko dosra qarz le rahen hai… ajeeeb choo panay ke economics hai…


  • >