IMF Program Will Boost the Economy: Dr. Hafeez Shaikh

The Advisor to Prime Minister on Finance, Revenue and Economic Affairs, Dr Abdul Hafeez Shaikh, has said that the country’s economy will improve after implementation of IMF program.

Addressing a meeting with the business community at the Sindh Governor House, he said that different programs were needed for the stabilization of economy of the country.

The Federal Board of Revenue (FBR) Chairman, Syed Shabbar Zaidi, was also present at the meeting. He added that Amnesty Scheme is fully supported by all the business community.

Sindh Governor Imran Ismail said that the government wanted to address the problems of the trade community and Sindh Industrial Liaison Committee has been formed in this regard.

“The government has set three new priorities in the upcoming budget which include fulfilling of basic masses needs, reducing expenditures and increasing the tax collections,” said Hafeez Sheikh.

The Advisor said that through this agreement, Pakistan will get six billion dollars on low-interest rate from IMF while it would also get two to three billion dollars from the World Bank and Asian Development Bank (ADB).

He said that prices of electricity would be increased, however, the consumers of less than 300 units will not be affected. 

Hafeez Sheikh also said that the amnesty scheme would prove to be fruitful for the economy of the country.

The Finance Advisor informed that the government would allocate around 800 billion rupees for the development programs in the next budget. 

He said Raza Baqir is a well known and expert economist and Shabbar Zaidi possesses expertise in tax affairs.


  • آئی ایم ایف مجبوری یا ایسٹ انڈیا کمپنی۔
    منیر احمد بلوچ عوام سے ایک سوال کرتا ہے ۔ فرض کریں اگر آپ کو پتہ چلے کہ وزیر اعظم عمران خان کو اپنے پانچ سالہ اقتدار میں زرداری اور نواز شریف حکومتوں کے دس برسوں میں پاکستان کی گردن پر لادے ہوئے اٹھاون ارب ڈالر میں سے اڑتیس ارب ڈالر قرض واپس کرنا ہے اڑتیس ارب ڈالر ضرب ایک سو چالیس روپے اور پھر یہ رقم روپوں میں بنے گی جس کو گننے کے لئے ایک عمر چاہئے ۔۔۔
    شاید کوئی شخص یقین کرنے کو تیار نہ ہو کہ اتنا پیسہ پاکستان نے اگلے پانچ سالوں میں واپس کرنا ہے جبکہ بیس ارب ڈالر اس کے بعد ہیں ۔ اگر یہ رقم پاکستان واپس نہیں کرتا تو کیا ہوگا؟
    جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی
    پشاور اسلام آباد موٹروے
    فیصل آباد پنڈی بھٹیاں موٹر وے
    اسلام آباد پشاور موٹروے
    اسلام آباد لاہور موٹر وے
    تمام ہائی ویز یعنی جی ٹی روڈ وغیرہ
    پاکستان ٹیلی ویژن
    ریڈیو پاکستان ۔ ۔۔ اور
    ان سب اداروں کی ملکیت کے تمام اثاثے
    سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب آئی ایم ایف کو گروی رکھ کے چلے گئے ہیں ۔۔۔اگر حکومت پاکستان یہ قرض واپس نہ کرے تو ورلڈ بنک ان قومی اثاثوں کو قرقی کرسکتا ہے ۔۔۔
    قرقی کرنے کا مطلب معلوم ہے کسی کو؟
    اگر آپ بنک کے پاس اپنا مکان گروی رکھ کے قرض لیں اور بنک کو قرض واپس نہ کریں تو بنک آپ کے مکان کی بولی لگوا کر کسی بھی شخص کو فروخت کردیتا ہے ۔۔
    دوسرے الفاظ میں یہ ادارے جن کا اوپر ذکر ہے ورلڈ بنک کو رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں بولی لگائے جاسکتے ہیں اور ہندوستان اسرائیل سمیت کوئی بھی ملک ان کو خرید سکتا ہے ۔۔
    آئی ایم ایف کے پاس جانے کی یہ مجبوری ہے ۔
    کچھ اور بھی ابھی سوالات ہیں
    آئی پی پیز پہ جو نواز شریف صاحب نے گیارہ سو اسی ارب روپے کا قرض چھوڑا ہے وہ عمران خان کیسے ادا کرے گا؟
    گیس کا ایک سو ستاون ارب روپیہ عمران خان کیسے ادا کرے گا؟
    پانچ برسوں کے لئے آئی ایم ایف سے لئے ہوئے اٹھائیس ارب ڈالر جو کہ متذکرہ بالا قرض اتارنے کے لئے لئے گئے تھے اور کہیں اور منتقل ہوگئے وہ عمران خان کہاں سے ادا کرے گا؟
    لیکن یہ ہم نے نہیں سوچنا کیونکہ یہ سوچنے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے ۔ ہاں یہ ہم ضرور سوچتے ہیں کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے حوالے کردیا گیا ہے ۔۔۔ پاکستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی بنا دی گئی ہے ۔
    ایک معلومات دیتا ہوں ۔۔۔ نئے گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر رضا باقر ہیں ۔ ان کا تعلق وہاڑی سے ہے ۔۔۔ ان کی آئی ایم ایف ملازمت کے دوران تنخواہ کم از کم پینتیس لاکھ روپے کے قریب تھی۔۔۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان ان کو سات سے دس لاکھ روپیہ تک ادا کرسکے گا۔۔ اتنے محب وطن ہم نہیں جتنے کچھ پاکستانی ہیں ۔۔ وہ پاکستان کے لئے آیا ہے ۔۔ پھر آئی ایم بنیادی طور پر ہے کیا ؟ اس کی تعریف پڑھیں ۔۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ایک ایسا ادارہ جس میں شامل امیر ممالک غریب ممالک کو آسان اقساط پر قرض فراہم کرتے ہیں اور ان کی معیشت کو بہتر بنانے کے اقدامات کرتے ہیں ۔ ان میں مسلمان ممالک بھی شامل ہیں ۔۔۔ پھر آئی ایم ایف میں ڈاکٹر باقر رضا جیسے کئی بڑے بڑے دماغ بڑی بڑی پوسٹوں پہ موجود ہیں جو محب وطن پاکستانی ہیں ۔ جن کا دل پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے ۔وہ اپنا باہر کا کمایا ہوا پاکستان لاتے ہیں شریف اور زرداری خاندان کی طرح پاکستان سے لوٹ کر باہر نہیں لے جاتے ۔ ۔۔ وہ سب پاکستانی پاکستان کو اس بحران سے نکالنے کے لئے کوشش کررہے ہیں ۔۔۔
    اور یہ پٹواری، بھٹواری ، فضلانڈوز ۔ ۔ بے عقل جاہل ان پڑھ ۔ ۔ الف کو لکیر پکارنے والے لکیر کے فقیر لوگ ۔ ۔۔ مُردوں کو زدندہ کہنے والے اور زندہ کو مردے بنا کے جیل کی کال کوٹھڑیوں میں دفن کرآنے والے ۔ ۔ ۔ ان کوکیا معلوم کہ پاکستان کیا ہے اور پاکستان کی اہمیت کیا ہے ؟ یہ بریانی کی پلیٹ پہ مرنے والے تھالی کے بیگن کیا جانیں معیشت کیا ہوتی ہے ؟ معیشت کے مسائل کیا ہوتے ہیں ۔۔۔ اور ان کو حل کیسے کرنا ہوتا ہے ؟۔۔۔
    پرانی کہاوت ہے کہ کوئی مسافر پردیسی کسی ویرانے مین بھٹکتا کسی جھونپڑی نما گھر کے دروازے پہ جا پہنچا ۔ ۔ ۔ اسے بھوک بھی لگی ہوئی تھی اور رات بھی گزارنا تھی ۔ ۔ کیا دیکھتا ہے کہ گھر کے والی کی بیوی دردِ زہ میں مبتلا ہے ۔۔۔جسے پیدائش میں مسلہ بنا ہوا ہے ۔۔۔ اس کے دماغ میں آئیڈیا آیا ۔۔۔ گھر کے مالک سے کہتا ہے کہ میں بہت پہنچا ہوا پیر ہوں ۔۔تعویز دیتا ہوں بچے کی پیدائش ہوجائے گی ۔۔لیکن بھوکا ہوں اور رات بھی رہنا ہے ۔۔ مالک نے آؤ بھگت کی ۔ اچھا بستر دیا ۔ کھانا دیا ۔ گدھے کو گھاس دیا ۔ ۔ جعلی پیر نے تعویز دیا اور ساتھ میں جنتر منتر پڑھنے لگا۔۔۔ عورت درد میں مبتلا تھی ۔۔ مالک پھر آیا ۔۔ پیر جی کوئی ھور دم کرو ۔ ۔ ۔
    پیر نے جنتر منتر پڑھنا شروع کیا اور کمرے کی طرف منہ کرکے پھونک دیا۔۔ اور کہا،۔،۔۔۔ لئے بھائی ۔۔۔ ھُن تیری بیوی دا ” اوڑا ” ٹھیک ہوجاسی ” بھلے وقتوں میں لیبر پین کو پنجابی میں اوڑا کہا جاتا تھا۔۔۔”
    جب شوہر کمرے سے نکل گیا تو جعلی پیر نے سرد رات میں رضائی اپنے اوپر لپیٹی اور یہ کہتے ہوئے سونے کی تیاری کرنے لگا کہ
    میری وی جاء بنڑ گئی
    تے میرے کھوتے دی جاء وی جاء بنڑ گئی
    تیری بیوی دا اوڑا ماریا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تے ۔۔۔
    میں تے لگا سونڑ ۔ ۔ ۔۔
    یہی کچھ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے پاکستان کے ساتھ کیا ہے ۔۔ کہ اپنا بھی پیٹ بھر لیا اور اپنے گدھوں کا بھی پیٹ بھر لیا۔۔ پاکستان کو لکھا ۔ ۔ ۔ پر اور خود آل اولاد کے ساتھ یورپ امریکہ چلے گئیے ۔
    تحریر افتخار احمد

  • Yes minister, IMF has boosted our economy 21 times. Why was IK against going to IMF before becoming PM?

    • True, but no one would reply on this. they keep their mouth shut when asked these questions and they provide with nonsense reasons. PTI has failed to prove themselves. They are taking all those steps for which they were abusing PMLN.

      I am not a supporter of PMLN or PPP though.


  • >