Pakistan still lacks a dedicated regulatory authority for electric motorcycles, while the absence of a comprehensive lithium battery policy has allowed substandard batteries to enter the market, a parliamentary panel was told on Monday.
During a meeting of a sub-committee of the National Assembly Standing Committee on Industries, lawmakers expressed concern over the fragmented regulatory framework governing the e-motorcycle sector.
Officials said multiple ministries and departments oversee different aspects of manufacturing, quality standards, charging infrastructure, battery imports and vehicle regulation.
Committee convener Dr Mehreen Bhutto warned that weak oversight has allowed some manufacturers to use low quality batteries that become unusable within two to three years, with replacement batteries costing up to Rs. 90,000.
Representatives of the e-motorcycle industry said high import duties on lithium-ion batteries have encouraged a grey market, where unlicensed operators refurbish imported battery cells and sell them without proper regulation. They also called for measures to promote local manufacturing of batteries and components.
The committee urged stakeholders to submit recommendations to improve safety standards, while Engineering Development Board Chief Executive Officer Hammad Mansoor said the government is finalizing a new battery policy to address many of the industry’s concerns.
Stay Connected with ProPakistani
Get the latest automobile news, car launches, bike reviews, videos and analysis wherever you prefer.
Add ProPakistani to Preferred Sources and see more of our stories in Google Search and Top Stories.

*پاکستان میں تیار ہونے والی الیکٹرک موٹرسائیکلوں کے معیار کے معاملے پر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارتِ صنعت و پیداوار کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ یہ معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں زیرِ بحث آیا، جس کی صدارت مہرین رزاق بھٹو نے کی۔*
اجلاس میں دونوں وزارتوں نے معیار اور ریگولیشن سے متعلق الگ الگ مؤقف اختیار کیا۔ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے مؤقف اختیار کیا کہ موٹرسائیکلوں کے معیار کا تعین اور اس پر عمل درآمد کرانا اس کی ذمہ داری ھے، جبکہ وزارتِ صنعت و پیداوار نے کہا کہ اقوام متحدہ (UN) کے معیارات پر عمل درآمد کرانا انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) کی ذمہ داری ھے۔
کمیٹی کی کنوینر نے دونوں وزارتوں کے متضاد مؤقف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں مشترکہ اور متفقہ مؤقف کے ساتھ شرکت کی جائے۔ انہوں نے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
*ان اداروں پر مفادات کی جنگ گذشتہ تین دھائیوں سے جاری ہے۔ ملک کی تین بڑی کار کمپنیوں اور ایک بڑی موٹرسائیکل کمپنی کے مفادات کا کھیل ہے۔*
اجلاس کو بتایا گیا کہ 30 ایمپیئر لیتھیم بیٹری کی قیمت تقریباً 300 امریکی ڈالر ھے اور چونکہ یہ بیٹریاں پاکستان میں تیار نہیں ہوتیں، اس لیے الیکٹرک موٹرسائیکلیں مہنگی ہیں۔ حکومتی 80 ہزار روپے کی سبسڈی قیمت کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ھے، تاہم اس وقت ایک الیکٹرک موٹرسائیکل کی قیمت 2 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد ھے۔ حکام کے مطابق ملک میں اس وقت تقریباً 60 الیکٹرک موٹرسائیکل مینوفیکچررز موجود ہیں۔
کمیٹی رکن ناز بلوچ نے بیٹریوں سے متعلق حادثات اور حفاظتی خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس پر EDB حکام نے بتایا کہ پاکستان میں موٹرز اور بیٹریوں کی جانچ کے لیے ایک بھی ٹیسٹنگ لیبارٹری موجود نہیں اور تمام مقامی مینوفیکچررز چینی معیارات اور ٹیسٹنگ پر انحصار کرتے ہیں۔
چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ بورڈ کو بیٹریوں سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں اور اس حوالے سے ایک اہم بل پارلیمنٹ میں زیر غور ہے، جس کی منظوری کے بعد EDB کو مؤثر قانونی کارروائی کے اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔
دوسری جانب PSQCA حکام نے بتایا کہ اتھارٹی نے الیکٹرک موٹرسائیکلوں کے لیے 172 معیارات مقرر کیے ہیں اور وہ صرف مینوفیکچرنگ یونٹس میں ان معیارات پر عمل درآمد کی نگرانی کرتی ھے۔
*واضح رہے پاکستان میں اگر آپ الیکٹرک وہیکلز یا انجن والی گاڑیوں کا اسمبلنگ یونٹ لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔تو EDB اور PSQCA کے سرٹیفکیٹ یا لائسنس لینے پڑ تے ہیں۔*
آجکل الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرک اسکوٹرز کی بڑھتی مانگ نے سابقہ مارکیٹ لیڈروں کی نیندیں اڑا دی ھیں۔
*یہ اطلاعات ہیں کہ مارکیٹ میں پیٹرول موٹر سائیکلوں کی فروخت کا مجموعی تناسب تقریباً اسی (80%) اورالیکٹرک موٹر سائیکلوں کی فروخت کا مجموعی تناسب تقریباً بیس (20%) فیصد تک چل رہا ہے؟*
جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے- اور اب ملک میں دس سے زائد الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں موجود ہیں۔
*محمد صابر شیخ