New SIM Rules: Future of Retailers is Yet to be Decided

اسے اردو میں پڑھیے

Mobile RetailersBased on recent directions from Pakistan Telecommunication Authority, retailers are currently not allowed to sell SIMs to mobile phone users.

This situation has left retailers without sales’ commissions – impacting their major revenues; additionally they are worried about the stock of SIMs that is still not being recalled by the operators.

In a letter published on ProPakistani last week, a retailer showed concerns over the stock of SIMs he had, while complaining that cellular companies aren’t clarifying the future of retailers’ money invested in stoked SIMs.

Industry sources suggest that there are 20 million SIMs, stocked with over 200,000 retailers across Pakistan.

Officials of cellular companies, who wanted to remain unnamed, told ProPakistani that cellular companies want retailers to get back on the sales grid, however, nothing has been decided yet. This delay in decision making is due to unclear directions from PTA.

An official said that cellular companies will indeed get majority of retailers, if not all, back on their sales channel but policy is yet to be devised. He said that cellular companies are waiting for further directions from PTA to decide anything on SIM stocks.

An industry analyst opined that cellular companies can’t go with just 1,000 service centres and franchises throughout Pakistan. He said that service centres and franchises are clearly not enough in numbers to meet the demands of a market with over 120 million subscribers. He said that retailers will be allowed to sell SIMs but only after formulating new SOPs, that are likely to be finalized by February 28th, 2013.

Market insiders tell ProPakistani that regulator is considering to make biometric verification of customers mandatory for new sales through retailers. For which operators will be asked to deploy biometric solutions at retailer outlets, while those retailers without such solutions won’t be allowed to make new sales.

It is said that cost of biometric solution, if ever deployed, is likely to be paid by retailers, hinting that number of retailers will significantly go down from 200,000 to somewhere around 30,000-50,000 across Pakistan.

Analysts say that this will be an ideal situation for cellular companies, especially in a market that is nearing saturation. They said that cellular companies were to down-size retailers, in any case, due to lowering sales and there won’t be a better way of achieving it than the one we are discussing here.

Pakistan Telecommunication Authority, according to its directive, is set to devise strategy for regularization of illegal SIMs by February 28th, 2013, for which authority is already in consultation with industry to formulize the plan for including retailers in process of selling SIMs.

We will have to wait to know more about the future of retailers.

    • the dates have no value here in Pakistan, I doubt even after 28th feb 2013 nothing will be changed and every thing will revert back to previous situation!

  • The Retailers /shop keepers who just brings some sims from differnt locations and sell in the shops should be 100% baned , as it is not good for them also a big risk to the country too , any one can get the SIM with any proof or with proof has a big question mark for the shop keepers , they can just sell the load and cards like shops .

  • Nothing wrong with the picture, they can still sell eazeload & prepaid vouchers without any restriction:-D

  • A relief to companies regular employees there job will be safe now. Companys owned business centers will restored to sell these SIM cards. May be they have to open new ones in different other cities:-D

  • اسلام علیکم۔

    أپ سے گزارش عرض ھے اس ای میل کو ایک بار ضرور پڑھیے گا۔ کیونکہ یہ 25 لاکھ
    لوگوں اور خاندانوں کی ذندگی اور موت کا مسعلہ ھے۔ جیسا کہ اپ جانتے ھیں رحمان ملک
    صاحب نےموبائل کنیکشن کی فروخت پر پابندی لگادی ھے جس سے 25 لاکہ لوگوں کا اور 25
    لاکھ خاندانوں کا زریع معاش وابستہ تھا۔ہر پیشہ میں اچھے برے لوگ ھے اس پیشہ میں
    بھی تھے مگر چند سو لوگوں کی وجہ سے لاکھوں لوگوں سے انکا کاروبار چھین لیا جاے یہ
    کہاں کا انصاف ھے ؟

    سرکاری ملازمین کرپشن رشوت ستانی کرتے ہیں تو کیا وہ سرکاری ادارہ بند کردینا

    موبایل سمز غلط ناموں پر کیسے ایکٹیو کی جاتی ہیں۔

    موبائل کمپنی کنیکشن سیلز کا ٹارگٹ دیتی ہیں ہر ماہ فرنچایز کو 3 سے 4 ہزار
    کنیکشن ۔ اور دھمکاتی بھی ھیں کہ اگر ٹارگٹ پورا نہ کیا تو کمیشن نہ ملے گا۔لیگل
    کرو یا ان لیگل سیلز لاو۔ فرنچایز کے پاس عوام اور اپنے تمام کسٹمرز کے شناختی
    کارڈ ہوتے ہیں۔

    سمز ایکٹیو کرنے کے لیے پوچھے جانے والے خفیہ سوال انکے جواب صرف کمپنی اور
    کمپنی کے ملازمین کو پتہ ھوتے ہیں سسٹم کی کمزوریاں بھی۔ کچھ موبائل شاپس کمپنی
    ملازمین کی یا انکی پارٹنر شپ میں ہوتی ھیں جہاں سے یہ ایکٹیو سمز فروخت کی جاتی
    ہیں ۔فرنچایز سے اس لیے فروخت نہیں کرتے کہ پی ٹی اے کا ڈر ہوتا ہے۔ تو قربانی کا
    بکرا اور بدنامی کا بکرا موبایل شاپ بن جاتی ہے دولت مند کرپشن کرکے اپنے تعلقات
    اور پیسہ کی وجہ سے بچ جاتا ہے۔ اور پھنستا غریب دکاندار اور کمپنی ملازم ھے جو
    اپنی نوکری یا دکان بچانے کے لیے کمپنیز کی بلیک میلنگ کا شکار ہوجاتا ہے۔اب بھی
    یہ ہوا کہ گورنمیٹ اور پی ٹی اے نے کمپنی اور فرنچایز کو تحفظ فراہم کردیا۔اور 25
    لاکھ دکانداروں کو بےروزگارکردیا۔موبیل شاپس پر رکھا کروڑوں روپے کی سمز نہ کمپنی
    واپس لینے کو تیار ہے نہ بیچنہ دینے کو۔ جو سم موبائل
    شاپ سے 70 روپے کی مل جاتی تھی اب وہ 300 اور اس سے زیادہ کی فرنچائز سے مل رہی ہے جبکہ کمپنی سے وہ سم 60
    روپے کی فرنچائز کو ملتی ہے۔موبائل کمپنی سم فرنچائز کو کمپنی ریٹ پر دیتی ہے
    فرنچائز نے وہی سمز دکانداروں کو زیادہ قیمت پر دیں گولڈن نمبرز 500 اور 1000 اور
    اس سے بھی زیادہ قیمت پر دیں اب فنچاٰئز دکانداروں کو مجبور کر رہی ہے کہ کمپنی
    ریٹ پر مطلب أدھی قیمت میں ہمیں واپس دو ورںہ یہ بند ہوجایں گی رحمان ملک صاحب دکانداروں کا مال کمپنی کو واپس
    لینے کے لیے بھی کوئی حکم جاری فرمایں کٰہ بےروزگار کرنےکا
    حکم تو بہت جلدی جاری کردیا تھا۔

    جو سم موبائل شاپ سے 70 روپے کی مل جاتی تھی اب
    وہ 300 اور اس سے زیادہ کی فرنچائز سے مل
    رہی ہے جبکہ کمپنی سے وہ سم 60 روپے کی فرنچائز کو ملتی ہے۔موبائل کمپنی سم
    فرنچائز کو کمپنی ریٹ پر دیتی ہے فرنچائز نے وہی سمز دکانداروں کو زیادہ قیمت پر
    دیں گولڈن نمبرز 500 اور 1000 اور اس سے بھی زیادہ قیمت پر دیں اب فنچاٰئز
    دکانداروں کو مجبور کر رہی ہے کہ کمپنی ریٹ پر مطلب أدھی سے کم قیمت میں ہمیں واپس
    دو ورںہ یہ بند ہوجایں گی کہیں اس پالیسی کا مقصد صرف کپمنی اور فرنچایز کو فایدہ
    اور عوام کو لوٹنا تو نہیں ؟ زرا سوچئے کیا فرنچائز کو اس بات کی سزا ملی کہ اس نے
    عوام کے نام پر سمز ایکٹیو کر کے دھشت گردوں کو دیں ؟ کروڑوں سمز اپ کو اگر یقین
    نہ ہو تو اپ کوئی بھی 10 لوگوں کے شناختی کارڈ نمبرز 668 پر میسیج کریں 9 افراد کے
    نام پر ایسی سمز 668 سے انے والے مسیج میں ظاہر ہوں گی جسکا علم ان 9 افراد کے
    فرشتوں کو بھی نہ ۔ ہوگا۔ کیا ان کروڑوں عوام کے شناختی کارڈوں کے غلط استعمال پر
    کسی فرنچائز کو اج تک سزا ملی؟ مل بھی نہی سکتی کہ وہ کوی دکاندار یا عام عوام
    نہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندہ فرنچائز ہیں۔ جو ماہانہ 8 لاکھ روپے تمام
    اخراجات نکال کر کمانے والے ٹیکس چور ہیں جو قانون کو خریدنا جانتے ہیں۔

    جس ملک کا قانون صرف طاقتور اور پیسے والو کو
    تحفظ فراہم کرتا اور کمزوروں کےفورا خلاف حرکت میں اجاتا ہو۔وہاں کل بھی اج بھی
    اور أئندھ بھی طاقتور لوگ ان ضمیر فروش فرنچایز اور کمپنی ملازمین سے بنا نام کی
    سمز اور موبائل کسٹمر کی خفیہ معلومات کال ہسٹری ،کال رکارڈنگ ،ایڈریس حاصل کرتے
    رہیں گے۔ جو غیرت کے نام پر قتل،خواتین کو رانگ کالز،بلیک میلنگ، ٹارگٹ کلنگ میں
    استعمال ہوتا رہے گا اور کچھ زہین لوگ کبھی موبئل شاپس بند کرنے کے حکم کبھی عوام
    کو بند کرنے کے حکم جاری کرتے رہیں گے۔ھمارے خیال سے موبئل فون پولیس کے لیے مخبر
    کا کام کرتا ہے۔جسکہ زریع ان کی أپس کی بات چیت ان کی پلاننگ پتہ چلتی ھے۔ ان کو
    پکڑنے کے لیے وہ طریقہ اپنائے جائیں جو ساری دنیا میں رائج ہیں۔ سم لوکیٹر،موبائیل
    لوکیٹر۔ اگر تخریب کار موبائل کی جگہ انٹرنیٹ سروسس سے کالنگ کریں تو انکا پکڑنا
    اور مشکل ہوگا۔ کہ غیرملکی ویب سئٹس انکو معلومات شائد ہی فراھم کریں۔

    موبائل سگنلز بند کرنے سے فی الحال تو فایدہ ہو
    رہا ھے مگر تخریب کار وائرلیس واکی ٹاکی یا دوسرے ٹیکنالوجی استعمال کرنا شروع
    کریں گے، بم بنانے کے طریقے انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔بم بنانے کا سامان بھی دکانوں
    پر دستیاب ہے غیرقانونی اسلحہ بھی بااسانی دستیاب ہے مگر ساری توجہ موبائل سمز پر
    مرکوز۔ کیونکہ اسلحہ کہ تاجروں اور موت کے سوداگروں کے حمایتی لوگ حکومتیں بنا اور
    گرا سکتے ہیں۔ رشوت اور سفارش پر بننے والے سرکاری ملازم میرٹ پر بننے والے تخریب
    کار کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟

    ملک صاحب کا تعلق سیکورٹی اداروں کے ساتھ ہوتاہے۔ سیکورٹی اداروں کو اس بات سے
    کوئی دلچسپی نہیں کہ پیپلزپارٹی کا ووٹ بنک کم ہو یا زیادہ اس اقدام سے 25 لاکھ
    خاندان فی خاندان 5 افراد بھی ہو تو 1کروڑ 25 لاکھ افراد اس فیصلہ سے متاثر ہوں گے
    کیا الیکشن سے پہلے 1کروڑ 25 لاکھ لوگوں کو گورنمنٹ سے بدظن کرنا کیا یہ فیصلہ
    رحمان ملک صاحب کا صحیح ہے؟

    اگر أج
    کوئی بھی سیاسی جماعت ان 25 لاکھ خاندانوں کے لیے أواز اٹھاے گا تو ان 1 کروڑ 25
    لاکھ لوگوں کی دعا اور انکا ووٹ اس جماعت کے لیے ہی ھوگا۔

    میری نظر
    میں ایک تجویز ہے جس سے یہ تمام لوگ بھی بےروزگاری سے بچ سکتے ہیں اور سمز
    ایکٹیویشن کا نظام بھی غلطیوں سے پاک ہوسکتا ہے۔اگر حکومت تمام موبائل شاپس کو سم
    ان ایکٹیو سمز کمپنی پیک شدہ سیل کرنے کی اجازت دے دے۔ کیونکہ ان ایکٹیو سم کسی
    بھی استمعال میں نہیں اسکتی نہ کال کی جاسکتی ہے نہ اسکتی ہے نہ مسیج وہ ایک ڈیڈ
    کنکشن ہوتی ہے۔ کسٹمر کسی بھی موبائل شاپ سے اپنی پسند کا نمبر خریدے پھر اس کنکشن
    کو ایکٹیو کرانے کے لیے قریبئ نادرا أفس یا موبایل فرنچایز جا کر بایومیٹرک سسٹم
    میں اپنی تمام معلومات فراہم کر کے کنکشن کارأمد ایکٹیو کرالے۔ اس طرح اگر کوی غلط
    ایکٹیویشن ھوگی بھی تو وہ صرف نادرا أفس والا یا فرنچایز والا کر سکے گا دکاندار
    نہیں۔ ہم شرطیہ کہتے ہیں اس سے غلط ایکٹیویشن ختم ہوجایں گی۔

    امید ہے
    أپ ہمارے لیے کوشش کریں گے۔

    ہم یہ ای میل صرف ان افراد اور اداروں کو کر رہے ہیں جن سے ہمیں بہت امیدیں وابستہ
    ہیں۔میڈیا کو گزشتہ ایک ماہ سے یہ ای میل بہیج رہے ہیں مگروہ اس معاملہ پر اور ان
    کاروباری مگر مچھوں کے خلاف کوئی أواز نہیں اٹھارہئے۔شاہد وہ ان سے ڈرتے ہیں یا ان
    کا ضمیر اس کی اجازت نہیں دیتا اگر أپ کے بس میں کچھ نہیں پھر بھی أپ اس ای میل کو
    دوسروں کو فارورڈ کرکے ھماری مدد کر سکتے ہیں۔شاید أپ کی زرا سی کوشش سے 25 لاکھ گھروں کا چولہا بجھنےسے بچ جاے۔


    سجاد شاہ


    گزشتہ ایک ماہ سے یہ ای میل ہم میڈیا کو عوام کو بہیج رہے ہیں مگر کچھ اثر نہیں ہو
    رہا ایسا لگتا ہے کسی قبرستان کے مردوں کوِ ای میل بہیج رہے ہیں۔ معاشرے اور میڈیا
    کی بے حسی اس حد تک پہنچ چکی ہے اندازہ نہ تھا۔ساتھ ہی یہ بھی پتہ چل گیا کہ لوگوں
    کو چور،دھشت گرد،تخریب کار بنانے میں بے حس معاشرہ ،میڈیا ،سیاست دان، اندھا قانون
    ،پالیسیاں، پالیسی ساز، اھم رول ادا کرتے ہیں۔ کہ یہ ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جن
    سے لوگ انتقاما یا مجبورا غلط راستے چننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

  • Ltd feature videos

    Watch more at LTD