Smog Forces Schools in Punjab to Change Timings

A tweet from the Government of Punjab has announced that schools will open at 9 AM and close at 2:30 PM from Wednesday, while the closing time for Friday will be 12:15 PM.

The polluted air covering cities in Punjab and some areas of KPK is hazardous to health, especially for kids and the elderly. Considering that students had to go to schools and colleges early in the morning when smog levels are high, the government has decided to change the timings until further notice, i.e. until the situation improves.

Smog has engulfed the province and has caused many accidents. One person died this today while some sections of the motorway have remained closed limiting the commute of travelers. Several flights leaving from airports in Lahore & Faisalabad have been delayed or canceled as well.

Syed Mansoor Ali Shah, the Chief Justice of Lahore High Court, has ordered the relevant authorities and the secretary environment to assemble guidelines for the court which will be used to control and prevent the smog from prevailing any further.

Tree plantation has also been encouraged by the Chief Justice and an action plan to plant trees is underway. Urban development in Lahore leads to a high amount of deforestation. Deforestation is one of the prime causes of pollution – especially air pollution – and it has reached massive and threatening levels in the Punjab area.

Via GeoNews


  • *سموگ کیا ہے*
    *القرآن کیا کہتا ہے*
    سوشل میڈیا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بتائی جارہی ہیں.
    کوئی کہہ رہا ہے یہ انڈیا والوں نے فصلوں کی باقیات کو آگ لگائی ہوئی ہے جس کے باعث ہے. کوئی اسے گلوبل وارمنگ کا شاخسانہ کہہ رہا ہے.
    اور کوئی اسے بڑھتی ہوئی انڈسٹریل آلودگی.
    لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہہ جنگ عظیم دوم ویت نام میں چلنے والے نیپام بم (ایسا بم جو وار ہیڈ کے پانچ سو میٹر میں آگ لگا سکتا تھا) ایسی آلودگی اور سموگ کیوں نہ پھیلا سکا.
    *اندازہ کیجیے* پانی کا نقطہ کھولاؤ 100 درجہ حرارت ہے جبکہ نیپام بم 800 سے 1200 درجہ حرارت کی آگ برساتا اور آگ لگنے کی رفتار 70 میل فی گھنٹہ جس کی لپیٹ میں آنے والے انسان جانور اور املاک منٹوں میں راکھ اور دھوؤیں کا ڈھیر ہو جاتے. نیپام بم کا وہ دھواں جس میں کاربن مونو آکسائیڈ اور نفتھینک پلمیٹک تیزآب اور بہت سے آگ پکڑنے والے زہریلے مادے ہوتے تھے ایسا سموگ پیدا نہ کر سکے.
    *کیوں*
    آجکل میڈیا پر لوگ دنیاوی چیزوں سے اسے تشبیع دے کر ڈرا رہے ہیں مگر افسوس صد افسوس ہمیں *آلودگی* اور *انڈیا* سے تو ڈرایا جا رہا ہے.
    مگر *اللہ* اور اس کے فرامین کے بارے ہم نابلد ہیں.
    ہم قرآن کو بھلا چکے ہیں ورنہ آج ہم کو انڈیا کی لگائی آگ سے زیادہ فکر اللہ کی طرف سے دہکائی گئی جہنم کی ہوتی.
    اللہ نے سورۃ الدخان میں فرمایا.
    فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ (10)
    سو اس دن کا انتظار کیجیے کہ آسمان ظاہر دھواں لائے۔
    يَغْشَى النَّاسَ ۖ هٰذَا عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ (11)
    جو لوگوں کو ڈھانپ لے، یہی دردناک عذاب ہے۔
    *یاد کرو* گزشتہ سال 2016 بھی یہی عذاب تھا مگر کچھ عرصہ کیلئے ٹال دیا گیا. اور اس عذاب میں بیماریاں اور حادثات ہیں. تب بھی ہم نہیں سمجھ رہے.
    ارشاد باری تعالیٰ ہے..!
    اِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيْلًا ۚ اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَ (15)
    ہم اس عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹا دیں گے مگر تم پھر وہی کرنے والے ہو۔
    *اور غور کرو* آج پھر ہم اس عذاب میں کس طرح مبتلا ہو چکے ہیں. مگر پھر بھی ہمیں ماسک لگا کر بچ نکلنے کی فکر ہے نہ کہ اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے ڈھانپنے کی.
    ہو سکے تو اپنا محاسبہ کریں اور تمام اہلِ اسلام کیلئے دعا کریں. اللہ سب کو ہدایت دے اور اہلِ اسلام کو پھر سے یکجا کر دے___Ameen

    ۔۔۔
    جزاک اللہ۔۔

      • wese b , smog season k season aae gi, jab faslein hoti hien, smog nhi hoti, q k faslein co2 absorb kjar leti hein, lekin jab fasl katti he to , fasl ko aag lga di jati hai, smog tha kar k wapis a ajanti hai


  • >