Companies are now spending more on AI tools and computing power than on employee salaries, raising new questions about the real cost of automation.
Bryan Catanzaro, Nvidia’s vice president of applied deep learning, told Axios that compute costs for his team are now far higher than employee costs. Axios also reported that Uber’s chief technology officer has already used the company’s full AI budget for 2026 because of token costs.
The rising cost of AI use is becoming a bigger concern as companies deploy tools for coding, research, support, and daily operations.
Amos Bar Joseph, chief executive of Swan AI, also drew attention online after posting about his Anthropic bill and saying the company was building an autonomous business by scaling with intelligence instead of headcount.
The examples show how AI expenses can increase quickly when companies rely heavily on paid models and token-based usage.
Worldwide IT spending is expected to reach $6.31 trillion in 2026, up 13.5% from 2025, according to Gartner. The research firm said the increase is being driven by strong demand for AI infrastructure and software.
Gartner also expects data center systems spending to grow 55.8% in 2026, while software spending is forecast to rise 15.1%.
The higher spending may create pressure for companies to show clear returns from AI investments.
Businesses with large IT budgets will likely need to prove that AI tools are improving productivity, reducing costs, or helping generate revenue. That pressure may be even stronger for public companies that have to answer to shareholders each quarter.
Brad Owens, vice president of digital labor strategy at Asymbl, told Axios that the conversation is shifting toward the real value of a worker, whether human or digital.
Rising AI costs may also affect enterprise spending at major AI labs.
Axios reported that an OpenAI investor believes the shift could benefit the company if Codex uses tokens more efficiently than Claude Code. The report also noted that Anthropic has changed pricing to respond to higher demand.
The larger issue is clear: as AI labs raise prices and usage grows, heavy AI spending could move from a sign of innovation to a financial risk.
View Comments
At the end of the day. Ai provided nothing
میرا رونا نہیں یہ رونا ہے سارے گلستان کا۔ یہ ایک داستان ہے ایسے شہر کی جسے اسلام اباد کہتے ہیں کہنے کو یہ وفاقی دارالحکومت ہے اور دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک لیکن یہاں کے مکینوں کی زندگیاں اجیرن ہو کر رہ گئی ہیں ی یہ سی ڈی اے کے زیر انتظام ہے سی ڈی اے کے قواعد و ضوابط اس کے شہری اور دہی علاقوں پر لاگو ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے سی ڈی اے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور اب وہ اس جگہ پر پہنچ چکی ہیں کہ وفاقی وزیر داخلہ جناب محسن نقوی صاحب کو یہ کہنا پڑا ہے کہ سی ڈی اے ان خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور انکے تدارک کا اہتمام کرے ۔انہی کے احکامات کے تحت سی ڈی اے کے نئے چیئرمین جناب سھیل اشرف نے عہدہ سنبھالنے کے فورا بعد اسلام اباد میں کام کرنے والی سو سوسائٹیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور لوگوں کو ان کے ساتھ کسی طرح کی بھی سرمایہ کاری کرنے سے روک دیا ہے اس طرح 16 سرکردہ سوسائٹیوں کو خلاف ورزیاں کرنے پر جرمانے عائد کرنے کے سلسلے میں سینیئر سپیشل مجسٹریٹ جناب سردار اصف کی جانب سے 21 مئی تک کے نوٹس دیے گئے ہیں اس کے بعد ان سوسائٹیوں کی جائدادیں ضبط کر لی جائیں گی ائیے اس بات کو صحیح طریقے سے سمجھتے ہیں جب بھی اسلام اباد میں کسی سوسائٹی کو کام کرنے کے لیے این او سی اور لے اوٹ پلان کی منظوری دی جاتی ہے تو سی ڈی اے کے قواعد کے مطابق وہ سوسائٹی اس بات کی پابند ہوتی ہے کہ اپنے ریائشیوں کو زندگی کی بنیادی سہولتیں جن میں پانی۔ بجلی۔ سڑکیں۔ٹیلی فون۔ حفاظتی دیواریں، قبرستان، پارک وغیرہ فراہم کریں اس مقصد کے لیے سی ڈی اے سوسائٹی کا 45 فیصد رقبہ مورٹ گیج یا رہن رکھ لیتی ہے تاکہ اگر وہ سوسائٹیاں اپنے عہد و پیمان کو پورا نہ کر سکیں تو یہ جائیداد دیں فروخت کر کے شہریوں کو یا ریاشیوں کو یہ سہولیات مہیا کرنے کی سی ڈی اے پابند ہے یہ امر باعث تشویش ہے کہ کسی بھی سوسائٹی نے سی ڈی اے کے قواعد ضوابط کی کما حقہ پابندی نہیں کی جس کی وجہ سے سوسائٹیوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو کر رہ گئی ہیں مختلف سوسائٹیوں سے احتجاج کی خبریں ملتی رہتی ہیں جن میں پانی کی کمی ،حفاظتی دیواروں کی عدم تکمیل، قبرستان اور سیکیورٹی وغیرہ کے مسائل سر فہرست ہوتے ہیں اس میں کوئی سوسائٹی بھی مستثنی نہیں ہے، سی ڈی اے کے قواعد کے مطابق بطور مثال کم از کم 60 لیٹر فی کس پانی روزانہ مہیا کرنا ضروری ہے لیکن سوسائٹیاں ایک لیٹر پانی بھی روزانہ مہیا کرنے سے قاصر رہتی ہیں یہ مضمون سوسائٹیوں کو نام لے کر مخاطب کرنے کے لیے نہیں ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جس سوسائٹی کو بھی زیر بحث لایا جائے اس سوسائٹی کے مکین ہمیشہ فریاد کرتے رہتے ہیں اس میں کسی کی دشمنی نہیں بلکہ قواعد و ضوابط کی پابندی اور اس کے تحت لوگوں کو سہولت مہیا کرنے کی ذمہ داری کا تعین کرنا مقصود ہے۔اچھا یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ تمام سوسائٹیاں پلاٹوں کی قیمت کی صورت میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کی قیمت پہلے ہی وصول کر چکی ہوتی ہیں اس لیے کہ ڈیویلپمنٹ چارجز میں یہ سارے چارجز شامل ہوتے ہیں۔اس وقت تو 16 سوسائٹیاں زیر بحث ہیں جن میں کئی بہت بڑی بھی ہیں اور نامور لوگ ان کے مالکان میں شامل ہیں محسن نقوی صاحب نے جو قدم اٹھایا ہے اس کے تحت کسی کو بھی معاف نہیں کیا جانا چاہیے اگر کسی نے بھی سی ڈی اے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کو کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ایک سوال اور بھی اٹھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب یہ سوسائٹیاں بن رہی تھی تو سی ڈی اے کہاں سو رہی تھی سی ڈی اے کا رول بنیادی طور پر ریگولیٹر کا رول ہے اور اگر ریگولیٹری اتھارٹی ھی سو جائے تو وہی ہوتا ہے جو اب اسلام اباد میں دیکھا جا رہا ہے۔چلیں دیر ائید درست ائید کے تحت جناب محسن نقوی صاحب اور سھیل اشرف صاحب نے جو اقدامات کرنا شروع کیے ہیں انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیے اور کسی قسم کی مداہنت یا سفارش کو اس میدان میں جگہ نہیں دینی چاہیے۔محسن نقوی صاحب اور سھیل اشرف صاحب کو چاھئے کہ وہ مختلف سوسائٹیوں کے اچانک دورے کریں کسی کی بات پر اعتبار نہ کریں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ سوسائٹیوں کے خلاف جو فریاد کی جارہی ہے وہ مبنی بر حقیقت ہے یا نہیں ۔دودھ کا دودھ پانی کا پانی ھو جاے گا۔ سید مزمل حسین کی مبنی بر حقائق تحریر ۔اس کے خلاف موقف کا خیر مقدم کیا جاے گا