Female Teacher Booked for Sexually Abusing & Blackmailing Young Student

In an unusual development, a woman from Rahim Yar Khan has been booked for sexually abusing a young boy and blackmailing him with the inappropriate videos.

Zohaib Ahmed, a resident of Rahim Yar Khan’s Jinnah Park area, has registered a complaint in B Division police station in this regard.


ALSO READ

Rawalpindi Police Arrests Couple for Sexually Abusing, Filming 45 Girls


According to him, his 12-year-old brother’s school teacher sexually assaulted him after giving him a sedative. She then recorded the heinous act and blackmailed the young boy into indecent activities multiple times.

The police has registered a case and started investigating the matter.


  • Its not unusual. Just sexual abuse cases where women are predators are not reported or do not get place in main stream media. Police would have arrested the culprit if only it was a man

    • Agreed. These types of cases are not unusual. They’re just buried. Some people start calling the male student “lucky”, others just refuse to believe him or to take action, some even ridicule the victim for “getting abused by a woman”. This mindset needs to change.

  • A very shamefull action by police against teacher, who complained for theft in her house, instead of action against theif , a shamdull FIR against teacher

  • بالکل غلط خبر اور میڈیا کا غلط استعمال کیا ہے اپ نے۔بغیر تحویق کے خبر لگای ہے۔یہ سب پولیس کی حرامزدگی ہے۔

  • ہندل نامہ
    اب جب کی 58 سالہ اس خاتون ٹیچر نے بھی اپنا موقف میڈیا کو دیا تو اب تمام تفصیلات پوسٹ کرنے میں کوئی حرج نہیں
    اس خاتون ٹیچر کا موقف غور سے سنیں اور پھر چوری والی ایف آئی آر بھی پڑھیں
    پھر اس لڑکے کا موقف سنیں اور اس کی ایف آئی آر بھی غور سے پڑھیں
    دونوں کا موقف سننے اور ایف آئی آرز پڑھنے کے بعد میری رائے میں یہ لڑکا ذناء کے الزام کی حد تک سو فیصد جھوٹا ہے
    ہو سکتا ہے کہ ان پر چوری کا الزام بھی جھوٹا ہو اور ریکوری بھی
    ہو سکتا ہے کہ معاملے صرف کرایہ داری تنازع کا ہو
    لیکن چوری کا الزام اگر جھوٹا بھی تھا تو اس کے جواب میں ایسا سنگین جھوٹا الزام لگانے اور اس الزام پر سب حقائق جانتے ہوئے بھی پولیس کی جانب سے ایف آئی آر دینا
    انتہائی شرمناک ہے
    لڑکے کی عمر 12/13 سال بتائی گئی یہ لڑکا کسی حساب سے بھی 17/18.سال سے کم عمر کا نہیں
    لڑکا خود بیان کر رہا ہے کہ خاتون نے زبردستی کروائی اور میں نے انکار کر دیا جس پر اس نے ہم پر چوری کی ایف آئی آر کٹوا دی
    مطلب نہ کوئی نشہ آور چیز دی گئی نہ کوئی ذناء ہوا نہ دوسرے بھائی کہ ساتھ یہ سب کچھ ہوا نہ اسے کوئی خطرناک بیماری لگی جو سب ایف آئی آر میں درج ہے
    سب سے بڑا سوالیہ نشان اس کیس پر یہ ہے کہ پولیس نے 2 ہفتے تک اس سب پر کاروائی کیوں نہ کی ؟
    اور اگر کی ہی تو 2 ہفتے کی تفتیش اور تحقیق میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر کیوں دی ؟
    2 ہفتے بعد اب کونسا میڈیکل ہوگا جس سے حقائق سامنے آ سکیں گے ؟
    حد ہو گئی ہے ویسے
    اور یہ رہی آج کی میڈیا رپورٹنگ جو کل کے اخبارات کی زینت بنے گی
    رحیم یار خان. لڑکے سے خاتون کی مبینہ زیادتی کا معاملہ

    رحیم یار خان.. ایس ایچ او کی بدنیتی اور ناجائز اختیار نے خاتون خانہ کی عزت کی دھجیاں اڑا دیں. پولیس زرائع

    رحیم یار خان. تھانہ بی ڈویزن پر ایس ایچ او محمد یونس تعینات ہے.
    رحیم یار خان. جھوٹا مقدمہ درج کئے جانے پر خاتون معاشرے میں تماشا بن گئی. پولیس زرائع

    رحیم یار خان.. ایس ایچ او کی مبینہ ملی بھگت سے درج کئے
    گئے مبینہ جھوٹے مقدمے سے خاتون ٹیچر اور اہل خانہ زہنی ازیت کا شکار ہے. خاندانی زرائع

    رحیم یار خان.. خاتون کے خلاف درج کیے گئے مقدمے سے قبل
    خاتون کی مدعیت میں درج کیا گیا چوری کا مقدمہ سامنے آگیا

    رحیم یار خان.ایس ایچ او نے مدعی خاتون کو ملزم بنایا. پولیس زرائع
    رحیم یار خان. ایس ایچ او نے ملزم کو مدعی بنادیا..ٹیچر ثمینہ

    رحیم یار خان. مجھے تھانے بلاکر چوری کا مقدمہ واپس لینے کے لیے حراساں کیا گیا. خاتون ٹیچر کا بھائی ندیم اقبال

    رحیم یار خان. ایس ایچ او نے کہا کہ اگر مقدمہ واپس نہ لیا تو سبق سکھائیں گے.. ندیم اقبال

    رحیم یار خان. میرے گھر چوری ہوئی تھی جس کامقدمہ درج ہے. ٹیچر ثمینہ
    رحیم یار خان. ملزمان سے پولیس کے زریعے مسرقہ سامان بھی برآمد ہو چکا ہے. ثمینہ ٹیچر

    رحیم یار خان. پولیس نے ایک روز بعد میرے خلاف گھناونا الزام لگا کرمقدمہ درج کردیا ہے. ٹیچر ثمینہ
    رحیم یار خان. 58 سالہ مقدس پیشہ سے وابستہ خاتون ٹیچر اور اہل خانہ پریشان

    رحیم یار خان. وزیر اعظم وزیر اعلی پنجاب شرم ناک مقدمہ کا نوٹس لیں. خاتون ٹیچر کی اپیل

    رحیم یار خان. مقدمہ کے متعلق تفتیش کررہے ہیں کچھ نہیں بتا سکتے. تفتیشی افسر
    رحیم یار خان. مزید معلومات ایس ایچ او سے لین. تفتیشی افسر

    رحیم یار خان. میں میٹنگ میں ہوں فلحال بات نہیں کرسکتا. ایس ایچ او محمد یونس

  • ProPakistani trying to generate traffic from clickbaits. Such a shame that you people are copy pasting news from other news outlets, at least do some research of your own.

  • The punishment under law in such cases should be made stringent to include insult as part of it to prevent such occurrences as recurrence in future.


  • >