Telcos are Selling SIMs Vigorously and Freely Before December 1st Deadline

اسے اردو میں پڑھیے

cellular-operator-PakistanMobile phone operators are considering these last days as their final chance to sell SIMs to maximize their subscribers’ count. For which, we are told that, mobile phone companies are making every possible effort to make sure that they sell maximum numbers of SIMs until sales channels are closed on December 1st, 2012.

It maybe recalled that PTA had issued a directive to all cellular operators on November 13th, 2012, asking them to shut down their sales network and that SIMs will be dispatched to customers’ home addresses given on their CNICs.

More Magazine reports that Ufone, Mobilink, Telenor and Warid have registered 15 to 20 per-cent growth rate in new sales after November 13 directive, while Zong has achieved staggering 200 percent growth rate.

Along with cellular companies, mobile phone subscribers are also taking these final days as a final chance to buy SIMs from retailers instead of waiting for days for SIM delivery to their homes after December 1st.

Having said this all, the idea of curbing unregistered SIMs by dispatching SIMs to home addresses after December 1st is likely to get failed, because 120 million already sold SIMs and millions of SIMs which are being sold during these final days (freely and at times bypassing all the SOPs) will go unchecked.

This is what exactly we discussed in our previous report in which we explained that why new rule of dispatching SIMs to home addresses isn’t the ultimate solution for elimination of unregistered SIMs from the market.

High-ups at Pakistan Telecommunication Authority are either un-aware of the market situation, which is very unprofessional, or they are simply ignoring the entire scenario and leaving us with no option but to think that agenda behind new directive isn’t national security but something else.

Tech reporter with over 10 years of experience, founder of ProPakistani.PK


  • The decision of govt is not 100% right but its still 70% good.

    you need to close the door to illegal sale of SIMs before cleaning up the existing database. If you don’t do so, cleaning of the existing database will have no effect

    Consider the following scenario:

    you cleaned up the existing database but a terrorist buys another illegal sim from the market and within 3/4 days of purchase, use it for bomb plot. How will you stop this?

    YOU WILL HAVE TO DO BOTH THINGS

    1- STOP ILLEGAL SIMS SALE

    2- CLEAN-UP EXISTING DATABASE OF SIMS

    order of doing anything first doesn’t matter, both things should be done immediately

      • Good question zameh

        2 problems:

        1. 789 systems just
        asks 2/3 questions which can be easily answered by anyone with a little
        access to NADRA database (who has access to nadra? ALL Mobile company
        operators, ALL Banking officers concerned with LOAN/ CREDIT CARDS). I
        personally know people cheating 789 system. Even you can change
        ownership with very little information of new owner.

        2. last
        month PTA busted over 2 million pre-activated sims from mobilink
        franchise in sargodha. These sims don’t need 789 activation!

        THE
        PROBLEM IS, MOBILE COMPANIES WANT TO SELL THEIR SIMS TO TEENAGERS FOR
        AFFAIRS (THIS IS THE MAIN REVENUE AREA). MOBILE COMPANIES WILL OPPOSE
        ANY SOLUTION WHICH BECOMES A HURDLE IN DOING SO.

  • Every strategy is flop.. what if most of the free sims r being bought by terriost.. how will they over come these fake identity..??

  • /////

    MUST READ THIS EMAIL BECAUSE THIS IS
    THE MATTER OF LIFE & DEATH OF 25 LACK SIM RETAILERS OF
    MOBILINK,UFONE,JAAZ,ZONG,WARID,TELENOR, PEOPLES & FAMILIES FORWARD TO
    OTHERS PLZ PLZ

    اسلام علیکم۔

    أپ سے گزارش عرض ھے اس ای میل کو ایک بار ضرور پڑھیے گا۔ کیونکہ یہ 25 لاکھ
    لوگوں اور خاندانوں کی ذندگی اور موت کا مسعلہ ھے۔ جیسا کہ اپ جانتے ھیں رحمان ملک
    صاحب نےموبائل کنیکشن کی فروخت پر پابندی لگادی ھے جس سے 25 لاکہ لوگوں کا اور 25
    لاکھ خاندانوں کا زریع معاش وابستہ تھا۔ہر پیشہ میں اچھے برے لوگ ھے اس پیشہ میں
    بھی تھے مگر چند سو لوگوں کی وجہ سے لاکھوں لوگوں سے انکا کاروبار چھین لیا جاے یہ
    کہاں کا انصاف ھے ؟

    سرکاری ملازمین کرپشن رشوت ستانی کرتے ہیں تو کیا وہ سرکاری ادارہ بند کردینا
    چاہیے؟

    موبایل سمز غلط ناموں پر کیسے ایکٹیو کی جاتی ہیں۔

    موبائل کمپنی کنیکشن سیلز کا ٹارگٹ دیتی ہیں ہر ماہ فرنچایز کو 3 سے 4 ہزار
    کنیکشن ۔ اور دھمکاتی بھی ھیں کہ اگر ٹارگٹ پورا نہ کیا تو کمیشن نہ ملے گا۔لیگل
    کرو یا ان لیگل سیلز لاو۔ فرنچایز کے پاس عوام اور اپنے تمام کسٹمرز کے شناختی
    کارڈ ہوتے ہیں۔

    سمز ایکٹیو کرنے کے لیے پوچھے جانے والے خفیہ سوال انکے جواب صرف کمپنی اور
    کمپنی کے ملازمین کو پتہ ھوتے ہیں سسٹم کی کمزوریاں بھی۔ کچھ موبائل شاپس کمپنی
    ملازمین کی یا انکی پارٹنر شپ میں ہوتی ھیں جہاں سے یہ ایکٹیو سمز فروخت کی جاتی
    ہیں ۔فرنچایز سے اس لیے فروخت نہیں کرتے کہ پی ٹی اے کا ڈر ہوتا ہے۔ تو قربانی کا
    بکرا اور بدنامی کا بکرا موبایل شاپ بن جاتی ہے دولت مند کرپشن کرکے اپنے تعلقات
    اور پیسہ کی وجہ سے بچ جاتا ہے۔ اور پھنستا غریب دکاندار اور کمپنی ملازم ھے جو
    اپنی نوکری یا دکان بچانے کے لیے کمپنیز کی بلیک میلنگ کا شکار ہوجاتا ہے۔اب بھی
    یہ ہوا کہ گورنمیٹ اور پی ٹی اے نے کمپنی اور فرنچایز کو تحفظ فراہم کردیا۔اور 25
    لاکھ دکانداروں کو بےروزگارکردیا۔موبیل شاپس پر رکھا کروڑوں روپے کی سمز نہ کمپنی
    واپس لینے کو تیار ہے نہ بیچنہ دینے کو۔ جو سم موبائل
    شاپ سے 70 روپے کی مل جاتی تھی اب وہ 300 اور اس سے زیادہ کی فرنچائز سے مل رہی ہے جبکہ کمپنی سے وہ سم 60
    روپے کی فرنچائز کو ملتی ہے۔موبائل کمپنی سم فرنچائز کو کمپنی ریٹ پر دیتی ہے
    فرنچائز نے وہی سمز دکانداروں کو زیادہ قیمت پر دیں گولڈن نمبرز 500 اور 1000 اور
    اس سے بھی زیادہ قیمت پر دیں اب فنچاٰئز دکانداروں کو مجبور کر رہی ہے کہ کمپنی
    ریٹ پر مطلب أدھی قیمت میں ہمیں واپس دو ورںہ یہ بند ہوجایں گی رحمان ملک صاحب دکانداروں کا مال کمپنی کو واپس
    لینے کے لیے بھی کوئی حکم جاری فرمایں کٰہ بےروزگار کرنےکا
    حکم تو بہت جلدی جاری کردیا تھا۔

    جو سم موبائل شاپ سے 70 روپے کی مل جاتی تھی اب
    وہ 300 اور اس سے زیادہ کی فرنچائز سے مل
    رہی ہے جبکہ کمپنی سے وہ سم 60 روپے کی فرنچائز کو ملتی ہے۔موبائل کمپنی سم
    فرنچائز کو کمپنی ریٹ پر دیتی ہے فرنچائز نے وہی سمز دکانداروں کو زیادہ قیمت پر
    دیں گولڈن نمبرز 500 اور 1000 اور اس سے بھی زیادہ قیمت پر دیں اب فنچاٰئز
    دکانداروں کو مجبور کر رہی ہے کہ کمپنی ریٹ پر مطلب أدھی سے کم قیمت میں ہمیں واپس
    دو ورںہ یہ بند ہوجایں گی کہیں اس پالیسی کا مقصد صرف کپمنی اور فرنچایز کو فایدہ
    اور عوام کو لوٹنا تو نہیں ؟ زرا سوچئے کیا فرنچائز کو اس بات کی سزا ملی کہ اس نے
    عوام کے نام پر سمز ایکٹیو کر کے دھشت گردوں کو دیں ؟ کروڑوں سمز اپ کو اگر یقین
    نہ ہو تو اپ کوئی بھی 10 لوگوں کے شناختی کارڈ نمبرز 668 پر میسیج کریں 9 افراد کے
    نام پر ایسی سمز 668 سے انے والے مسیج میں ظاہر ہوں گی جسکا علم ان 9 افراد کے
    فرشتوں کو بھی نہ ۔ ہوگا۔ کیا ان کروڑوں عوام کے شناختی کارڈوں کے غلط استعمال پر
    کسی فرنچائز کو اج تک سزا ملی؟ مل بھی نہی سکتی کہ وہ کوی دکاندار یا عام عوام
    نہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندہ فرنچائز ہیں۔ جو ماہانہ 8 لاکھ روپے تمام
    اخراجات نکال کر کمانے والے ٹیکس چور ہیں جو قانون کو خریدنا جانتے ہیں۔

    جس ملک کا قانون صرف طاقتور اور پیسے والو کو
    تحفظ فراہم کرتا اور کمزوروں کےفورا خلاف حرکت میں اجاتا ہو۔وہاں کل بھی اج بھی
    اور أئندھ بھی طاقتور لوگ ان ضمیر فروش فرنچایز اور کمپنی ملازمین سے بنا نام کی
    سمز اور موبائل کسٹمر کی خفیہ معلومات کال ہسٹری ،کال رکارڈنگ ،ایڈریس حاصل کرتے
    رہیں گے۔ جو غیرت کے نام پر قتل،خواتین کو رانگ کالز،بلیک میلنگ، ٹارگٹ کلنگ میں
    استعمال ہوتا رہے گا اور کچھ زہین لوگ کبھی موبئل شاپس بند کرنے کے حکم کبھی عوام
    کو بند کرنے کے حکم جاری کرتے رہیں گے۔ھمارے خیال سے موبئل فون پولیس کے لیے مخبر
    کا کام کرتا ہے۔جسکہ زریع ان کی أپس کی بات چیت ان کی پلاننگ پتہ چلتی ھے۔ ان کو
    پکڑنے کے لیے وہ طریقہ اپنائے جائیں جو ساری دنیا میں رائج ہیں۔ سم لوکیٹر،موبائیل
    لوکیٹر۔ اگر تخریب کار موبائل کی جگہ انٹرنیٹ سروسس سے کالنگ کریں تو انکا پکڑنا
    اور مشکل ہوگا۔ کہ غیرملکی ویب سئٹس انکو معلومات شائد ہی فراھم کریں۔

    موبائل سگنلز بند کرنے سے فی الحال تو فایدہ ہو
    رہا ھے مگر تخریب کار وائرلیس واکی ٹاکی یا دوسرے ٹیکنالوجی استعمال کرنا شروع
    کریں گے، بم بنانے کے طریقے انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔بم بنانے کا سامان بھی دکانوں
    پر دستیاب ہے غیرقانونی اسلحہ بھی بااسانی دستیاب ہے مگر ساری توجہ موبائل سمز پر
    مرکوز۔ کیونکہ اسلحہ کہ تاجروں اور موت کے سوداگروں کے حمایتی لوگ حکومتیں بنا اور
    گرا سکتے ہیں۔ رشوت اور سفارش پر بننے والے سرکاری ملازم میرٹ پر بننے والے تخریب
    کار کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟

    رحمان
    ملک صاحب کا تعلق سیکورٹی اداروں کے ساتھ ہوتاہے۔ سیکورٹی اداروں کو اس بات سے
    کوئی دلچسپی نہیں کہ پیپلزپارٹی کا ووٹ بنک کم ہو یا زیادہ اس اقدام سے 25 لاکھ
    خاندان فی خاندان 5 افراد بھی ہو تو 1کروڑ 25 لاکھ افراد اس فیصلہ سے متاثر ہوں گے
    کیا الیکشن سے پہلے 1کروڑ 25 لاکھ لوگوں کو گورنمنٹ سے بدظن کرنا کیا یہ فیصلہ
    رحمان ملک صاحب کا صحیح ہے؟

    اگر أج
    کوئی بھی سیاسی جماعت ان 25 لاکھ خاندانوں کے لیے أواز اٹھاے گا تو ان 1 کروڑ 25
    لاکھ لوگوں کی دعا اور انکا ووٹ اس جماعت کے لیے ہی ھوگا۔

    میری نظر
    میں ایک تجویز ہے جس سے یہ تمام لوگ بھی بےروزگاری سے بچ سکتے ہیں اور سمز
    ایکٹیویشن کا نظام بھی غلطیوں سے پاک ہوسکتا ہے۔اگر حکومت تمام موبائل شاپس کو سم
    ان ایکٹیو سمز کمپنی پیک شدہ سیل کرنے کی اجازت دے دے۔ کیونکہ ان ایکٹیو سم کسی
    بھی استمعال میں نہیں اسکتی نہ کال کی جاسکتی ہے نہ اسکتی ہے نہ مسیج وہ ایک ڈیڈ
    کنکشن ہوتی ہے۔ کسٹمر کسی بھی موبائل شاپ سے اپنی پسند کا نمبر خریدے پھر اس کنکشن
    کو ایکٹیو کرانے کے لیے قریبئ نادرا أفس یا موبایل فرنچایز جا کر بایومیٹرک سسٹم
    میں اپنی تمام معلومات فراہم کر کے کنکشن کارأمد ایکٹیو کرالے۔ اس طرح اگر کوی غلط
    ایکٹیویشن ھوگی بھی تو وہ صرف نادرا أفس والا یا فرنچایز والا کر سکے گا دکاندار
    نہیں۔ ہم شرطیہ کہتے ہیں اس سے غلط ایکٹیویشن ختم ہوجایں گی۔

    امید ہے
    أپ ہمارے لیے کوشش کریں گے۔

    کیونکہ
    ہم یہ ای میل صرف ان افراد اور اداروں کو کر رہے ہیں جن سے ہمیں بہت امیدیں وابستہ
    ہیں۔میڈیا کو گزشتہ ایک ماہ سے یہ ای میل بہیج رہے ہیں مگروہ اس معاملہ پر اور ان
    کاروباری مگر مچھوں کے خلاف کوئی أواز نہیں اٹھارہئے۔شاہد وہ ان سے ڈرتے ہیں یا ان
    کا ضمیر اس کی اجازت نہیں دیتا اگر أپ کے بس میں کچھ نہیں پھر بھی أپ اس ای میل کو
    دوسروں کو فارورڈ کرکے ھماری مدد کر سکتے ہیں۔شاید أپ کی زرا سی کوشش سے 25 لاکھ گھروں کا چولہا بجھنےسے بچ جاے۔

    شکریہ

    سجاد شاہ

    03457020202

    نوٹ:
    گزشتہ ایک ماہ سے یہ ای میل ہم میڈیا کو عوام کو بہیج رہے ہیں مگر کچھ اثر نہیں ہو
    رہا ایسا لگتا ہے کسی قبرستان کے مردوں کوِ ای میل بہیج رہے ہیں۔ معاشرے اور میڈیا
    کی بے حسی اس حد تک پہنچ چکی ہے اندازہ نہ تھا۔ساتھ ہی یہ بھی پتہ چل گیا کہ لوگوں
    کو چور،دھشت گرد،تخریب کار بنانے میں بے حس معاشرہ ،میڈیا ،سیاست دان، اندھا قانون
    ،پالیسیاں، پالیسی ساز، اھم رول ادا کرتے ہیں۔ کہ یہ ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جن
    سے لوگ انتقاما یا مجبورا غلط راستے چننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔


  • close
    >