Telcos Waiting for PTA Notification: No Sale of SIM, Re-Issuance of SIMs, MNP Today

اسے اردو میں پڑھیے

PTA-logoFirst time In the history of Pakistani Telecom Industry, mobile phone operators are not selling any new SIMs, re-issuing SIMs or porting customers through Mobile Number Portability today.

789 service is down as well.

Mobile phone operators told ProPakistani, just minutes ago, that they are waiting for notification from Pakistan Telecommunication Authority to nullify its earlier directive, according to which mobile phone companies were asked to not to sell SIMs on franchises, service centres and at retail shops from December 1st, 2012 (i.e. today).

Furthermore, ban on MNP is still upheld because no notification has been issued by PTA, despite the clear announcement made by Raja Pervez Ashraf, the Prime Minister of Pakistan for lifting the ban on MNP and cancelling other SIM rules that were notified by PTA on November 13th, 2012.

Cellular companies said they are not selling anything on their service centres and franchises. They said that they aren’t communicated with any process for selling SIMs and hence they are clueless and are left without making new sales today. Cellular companies are also waiting for policy regarding the stock available at retail stores.

Mobile companies are hoping that PTA will issue notification today, after which they will start selling SIMs again.

PTA’s spokesperson wasn’t available for comment due to holiday today.

Industry experts were aggrieved to witness the situation, where PTA didn’t notify the cellular operators about cancellation of its earlier directive, despite very clear and loud orders issued by Prime Minister of Pakistan. They said, the immature behaviour from PTA is going to impact industry in many ways.

Tech reporter with over 10 years of experience, founder of ProPakistani.PK


  • They are clueless about how to take decision, In Pakistan everyone is boss of his own, First rehman baba ban the sim sell, PM came up, and lifted the ban. Now they aren’t making any announcement about new sim sells, because they don’t know what to announce :P such a un professional behavior.

    P.S: Mobile sector ki income sbse zyada hey,I think mobile network walo se “HISSA” manga hoga, unhone nai dia to unhe pareshan karne k liya pabandian lagai jarhi hen

    • Karim

      Obviously saahil aur kya lagta hai tumhay, bari parchi gaye hai lagta hai telecommunication companies ko :P

  • Usman

    I say there should be no sale for at least 1 month

  • Kiren Ahmed

    MUST READ THIS EMAIL BECAUSE THIS IS
    THE MATTER OF LIFE & DEATH OF 25 LACK SIM RETAILERS OF
    MOBILINK,UFONE,JAAZ,ZONG,WARID,TELENOR, PEOPLES & FAMILIES FORWARD TO
    OTHERS PLZ PLZ

    اسلام علیکم۔

    أپ سے گزارش عرض ھے اس ای میل کو ایک بار ضرور پڑھیے گا۔ کیونکہ یہ 25 لاکھ
    لوگوں اور خاندانوں کی ذندگی اور موت کا مسعلہ ھے۔ جیسا کہ اپ جانتے ھیں رحمان ملک
    صاحب نےموبائل کنیکشن کی فروخت پر پابندی لگادی ھے جس سے 25 لاکہ لوگوں کا اور 25
    لاکھ خاندانوں کا زریع معاش وابستہ تھا۔ہر پیشہ میں اچھے برے لوگ ھے اس پیشہ میں
    بھی تھے مگر چند سو لوگوں کی وجہ سے لاکھوں لوگوں سے انکا کاروبار چھین لیا جاے یہ
    کہاں کا انصاف ھے ؟

    سرکاری ملازمین کرپشن رشوت ستانی کرتے ہیں تو کیا وہ سرکاری ادارہ بند کردینا
    چاہیے؟

    موبایل سمز غلط ناموں پر کیسے ایکٹیو کی جاتی ہیں۔

    موبائل کمپنی کنیکشن سیلز کا ٹارگٹ دیتی ہیں ہر ماہ فرنچایز کو 3 سے 4 ہزار
    کنیکشن ۔ اور دھمکاتی بھی ھیں کہ اگر ٹارگٹ پورا نہ کیا تو کمیشن نہ ملے گا۔لیگل
    کرو یا ان لیگل سیلز لاو۔ فرنچایز کے پاس عوام اور اپنے تمام کسٹمرز کے شناختی
    کارڈ ہوتے ہیں۔

    سمز ایکٹیو کرنے کے لیے پوچھے جانے والے خفیہ سوال انکے جواب صرف کمپنی اور
    کمپنی کے ملازمین کو پتہ ھوتے ہیں سسٹم کی کمزوریاں بھی۔ کچھ موبائل شاپس کمپنی
    ملازمین کی یا انکی پارٹنر شپ میں ہوتی ھیں جہاں سے یہ ایکٹیو سمز فروخت کی جاتی
    ہیں ۔فرنچایز سے اس لیے فروخت نہیں کرتے کہ پی ٹی اے کا ڈر ہوتا ہے۔ تو قربانی کا
    بکرا اور بدنامی کا بکرا موبایل شاپ بن جاتی ہے دولت مند کرپشن کرکے اپنے تعلقات
    اور پیسہ کی وجہ سے بچ جاتا ہے۔ اور پھنستا غریب دکاندار اور کمپنی ملازم ھے جو
    اپنی نوکری یا دکان بچانے کے لیے کمپنیز کی بلیک میلنگ کا شکار ہوجاتا ہے۔اب بھی
    یہ ہوا کہ گورنمیٹ اور پی ٹی اے نے کمپنی اور فرنچایز کو تحفظ فراہم کردیا۔اور 25
    لاکھ دکانداروں کو بےروزگارکردیا۔موبیل شاپس پر رکھا کروڑوں روپے کی سمز نہ کمپنی
    واپس لینے کو تیار ہے نہ بیچنہ دینے کو۔ جو سم موبائل
    شاپ سے 70 روپے کی مل جاتی تھی اب وہ 300 اور اس سے زیادہ کی فرنچائز سے مل رہی ہے جبکہ کمپنی سے وہ سم 60
    روپے کی فرنچائز کو ملتی ہے۔موبائل کمپنی سم فرنچائز کو کمپنی ریٹ پر دیتی ہے
    فرنچائز نے وہی سمز دکانداروں کو زیادہ قیمت پر دیں گولڈن نمبرز 500 اور 1000 اور
    اس سے بھی زیادہ قیمت پر دیں اب فنچاٰئز دکانداروں کو مجبور کر رہی ہے کہ کمپنی
    ریٹ پر مطلب أدھی قیمت میں ہمیں واپس دو ورںہ یہ بند ہوجایں گی رحمان ملک صاحب دکانداروں کا مال کمپنی کو واپس
    لینے کے لیے بھی کوئی حکم جاری فرمایں کٰہ بےروزگار کرنےکا
    حکم تو بہت جلدی جاری کردیا تھا۔

    جو سم موبائل شاپ سے 70 روپے کی مل جاتی تھی اب
    وہ 300 اور اس سے زیادہ کی فرنچائز سے مل
    رہی ہے جبکہ کمپنی سے وہ سم 60 روپے کی فرنچائز کو ملتی ہے۔موبائل کمپنی سم
    فرنچائز کو کمپنی ریٹ پر دیتی ہے فرنچائز نے وہی سمز دکانداروں کو زیادہ قیمت پر
    دیں گولڈن نمبرز 500 اور 1000 اور اس سے بھی زیادہ قیمت پر دیں اب فنچاٰئز
    دکانداروں کو مجبور کر رہی ہے کہ کمپنی ریٹ پر مطلب أدھی سے کم قیمت میں ہمیں واپس
    دو ورںہ یہ بند ہوجایں گی کہیں اس پالیسی کا مقصد صرف کپمنی اور فرنچایز کو فایدہ
    اور عوام کو لوٹنا تو نہیں ؟ زرا سوچئے کیا فرنچائز کو اس بات کی سزا ملی کہ اس نے
    عوام کے نام پر سمز ایکٹیو کر کے دھشت گردوں کو دیں ؟ کروڑوں سمز اپ کو اگر یقین
    نہ ہو تو اپ کوئی بھی 10 لوگوں کے شناختی کارڈ نمبرز 668 پر میسیج کریں 9 افراد کے
    نام پر ایسی سمز 668 سے انے والے مسیج میں ظاہر ہوں گی جسکا علم ان 9 افراد کے
    فرشتوں کو بھی نہ ۔ ہوگا۔ کیا ان کروڑوں عوام کے شناختی کارڈوں کے غلط استعمال پر
    کسی فرنچائز کو اج تک سزا ملی؟ مل بھی نہی سکتی کہ وہ کوی دکاندار یا عام عوام
    نہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندہ فرنچائز ہیں۔ جو ماہانہ 8 لاکھ روپے تمام
    اخراجات نکال کر کمانے والے ٹیکس چور ہیں جو قانون کو خریدنا جانتے ہیں۔

    جس ملک کا قانون صرف طاقتور اور پیسے والو کو
    تحفظ فراہم کرتا اور کمزوروں کےفورا خلاف حرکت میں اجاتا ہو۔وہاں کل بھی اج بھی
    اور أئندھ بھی طاقتور لوگ ان ضمیر فروش فرنچایز اور کمپنی ملازمین سے بنا نام کی
    سمز اور موبائل کسٹمر کی خفیہ معلومات کال ہسٹری ،کال رکارڈنگ ،ایڈریس حاصل کرتے
    رہیں گے۔ جو غیرت کے نام پر قتل،خواتین کو رانگ کالز،بلیک میلنگ، ٹارگٹ کلنگ میں
    استعمال ہوتا رہے گا اور کچھ زہین لوگ کبھی موبئل شاپس بند کرنے کے حکم کبھی عوام
    کو بند کرنے کے حکم جاری کرتے رہیں گے۔ھمارے خیال سے موبئل فون پولیس کے لیے مخبر
    کا کام کرتا ہے۔جسکہ زریع ان کی أپس کی بات چیت ان کی پلاننگ پتہ چلتی ھے۔ ان کو
    پکڑنے کے لیے وہ طریقہ اپنائے جائیں جو ساری دنیا میں رائج ہیں۔ سم لوکیٹر،موبائیل
    لوکیٹر۔ اگر تخریب کار موبائل کی جگہ انٹرنیٹ سروسس سے کالنگ کریں تو انکا پکڑنا
    اور مشکل ہوگا۔ کہ غیرملکی ویب سئٹس انکو معلومات شائد ہی فراھم کریں۔

    موبائل سگنلز بند کرنے سے فی الحال تو فایدہ ہو
    رہا ھے مگر تخریب کار وائرلیس واکی ٹاکی یا دوسرے ٹیکنالوجی استعمال کرنا شروع
    کریں گے، بم بنانے کے طریقے انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔بم بنانے کا سامان بھی دکانوں
    پر دستیاب ہے غیرقانونی اسلحہ بھی بااسانی دستیاب ہے مگر ساری توجہ موبائل سمز پر
    مرکوز۔ کیونکہ اسلحہ کہ تاجروں اور موت کے سوداگروں کے حمایتی لوگ حکومتیں بنا اور
    گرا سکتے ہیں۔ رشوت اور سفارش پر بننے والے سرکاری ملازم میرٹ پر بننے والے تخریب
    کار کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟

    رحمان
    ملک صاحب کا تعلق سیکورٹی اداروں کے ساتھ ہوتاہے۔ سیکورٹی اداروں کو اس بات سے
    کوئی دلچسپی نہیں کہ پیپلزپارٹی کا ووٹ بنک کم ہو یا زیادہ اس اقدام سے 25 لاکھ
    خاندان فی خاندان 5 افراد بھی ہو تو 1کروڑ 25 لاکھ افراد اس فیصلہ سے متاثر ہوں گے
    کیا الیکشن سے پہلے 1کروڑ 25 لاکھ لوگوں کو گورنمنٹ سے بدظن کرنا کیا یہ فیصلہ
    رحمان ملک صاحب کا صحیح ہے؟

    اگر أج
    کوئی بھی سیاسی جماعت ان 25 لاکھ خاندانوں کے لیے أواز اٹھاے گا تو ان 1 کروڑ 25
    لاکھ لوگوں کی دعا اور انکا ووٹ اس جماعت کے لیے ہی ھوگا۔

    میری نظر
    میں ایک تجویز ہے جس سے یہ تمام لوگ بھی بےروزگاری سے بچ سکتے ہیں اور سمز
    ایکٹیویشن کا نظام بھی غلطیوں سے پاک ہوسکتا ہے۔اگر حکومت تمام موبائل شاپس کو سم
    ان ایکٹیو سمز کمپنی پیک شدہ سیل کرنے کی اجازت دے دے۔ کیونکہ ان ایکٹیو سم کسی
    بھی استمعال میں نہیں اسکتی نہ کال کی جاسکتی ہے نہ اسکتی ہے نہ مسیج وہ ایک ڈیڈ
    کنکشن ہوتی ہے۔ کسٹمر کسی بھی موبائل شاپ سے اپنی پسند کا نمبر خریدے پھر اس کنکشن
    کو ایکٹیو کرانے کے لیے قریبئ نادرا أفس یا موبایل فرنچایز جا کر بایومیٹرک سسٹم
    میں اپنی تمام معلومات فراہم کر کے کنکشن کارأمد ایکٹیو کرالے۔ اس طرح اگر کوی غلط
    ایکٹیویشن ھوگی بھی تو وہ صرف نادرا أفس والا یا فرنچایز والا کر سکے گا دکاندار
    نہیں۔ ہم شرطیہ کہتے ہیں اس سے غلط ایکٹیویشن ختم ہوجایں گی۔

    امید ہے
    أپ ہمارے لیے کوشش کریں گے۔

    کیونکہ
    ہم یہ ای میل صرف ان افراد اور اداروں کو کر رہے ہیں جن سے ہمیں بہت امیدیں وابستہ
    ہیں۔میڈیا کو گزشتہ ایک ماہ سے یہ ای میل بہیج رہے ہیں مگروہ اس معاملہ پر اور ان
    کاروباری مگر مچھوں کے خلاف کوئی أواز نہیں اٹھارہئے۔شاہد وہ ان سے ڈرتے ہیں یا ان
    کا ضمیر اس کی اجازت نہیں دیتا اگر أپ کے بس میں کچھ نہیں پھر بھی أپ اس ای میل کو
    دوسروں کو فارورڈ کرکے ھماری مدد کر سکتے ہیں۔شاید أپ کی زرا سی کوشش سے 25 لاکھ گھروں کا چولہا بجھنےسے بچ جاے۔

    شکریہ

    سجاد شاہ

    03457020202

    نوٹ:
    گزشتہ ایک ماہ سے یہ ای میل ہم میڈیا کو عوام کو بہیج رہے ہیں مگر کچھ اثر نہیں ہو
    رہا ایسا لگتا ہے کسی قبرستان کے مردوں کوِ ای میل بہیج رہے ہیں۔ معاشرے اور میڈیا
    کی بے حسی اس حد تک پہنچ چکی ہے اندازہ نہ تھا۔ساتھ ہی یہ بھی پتہ چل گیا کہ لوگوں
    کو چور،دھشت گرد،تخریب کار بنانے میں بے حس معاشرہ ،میڈیا ،سیاست دان، اندھا قانون
    ،پالیسیاں، پالیسی ساز، اھم رول ادا کرتے ہیں۔ کہ یہ ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جن
    سے لوگ انتقاما یا مجبورا غلط راستے چننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔