Hope for Lepers in Pakistan, Dr Ruth Pfau Passes Away

Dr Ruth Pfau, a German nun, who dedicated her life to treating leprosy patients in Pakistan, died at 4 am today.

She was admitted to the Agha Khan Hospital on Wednesday where she lost her life at the age of 87.

Dr Ruth Pfau – the founder of National Leprosy Control Programme in Pakistan – was just 29 when she came to this country. When she saw the first glimpse of leprosy in 1958, she decided it was her calling and stayed in the country.

“I could have left Pakistan earlier if I wanted to but I will stay here,” said Dr Pfau.

She spent the last 50 years of her life working to make the lives of leprosy patients better.

She Lived it Right

Dr Ruth Pfau founded the Marie Adelaide Leprosy Center. It started with Karachi. In the next few years, the Marie Adelaide Leprosy Center opened more branches in all other provinces of the country, including in Gilgit-Baltistan.

These centers have saved the lives of over 50,000 people to date.

She found peace and contentment in the lives she saved when she traveled across the country. Owing to her efforts, in 1996, Pakistan was regarded as one of the first countries to have controlled leprosy.

She did not limit her efforts to treating leprosy patients but was also of immense help when Sindh faced severe flooding.

The nun received the honorary awards of Hilal-e-Pakistan in 1989 and Hilal-e-Imtiaz in 1979 from the government of Pakistan.

She was also awarded with the Staufer Medal – the highest award of the German state of Baden-Württemberg – by the German consul-general to acknowledge the work she has done in putting a stop to leprosy.

“I have worked hard with my team to eradicate leprosy in Pakistan, our hard work could not completely eliminate this disease but at least we managed to decrease it,” she said.

Love From All Over the World

Dr Ruth received love and condolences from all over the world.

On hearing the sad news of her demise, President Mamnoon Hussain expressed his grief and said

“Dr Pfau’s services to end leprosy in Pakistan cannot be forgotten. She left her homeland and made Pakistan her home to serve humanity. Pakistani nation salutes Dr Pfau and her great tradition to serve humanity will be continued.”

There were numerous tweets expressing love for the Mother Teresa of Pakistan.

Her funeral will be held on August 19 in St Patrick’s Cathedral, at 11 am. She will be laid to rest in the Christian Cemetery.


  • Taha Najam

    Had never heard of her until now, but reading about her, she’s definitely up there with the likes of Eidhi.

  • ” Ache Log Kabhi Nahi Marte Wo Hamesha Dilo Main Rehte hai “

    • Muhammed Ovais Alam

      Pata bhi tha k ye hain koun?

      • Dr. Ruth Katherina Martha Pfau
        پاکستانی مَدر ٹریسا ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺭُﺗﮫ فاؤ انتقال کرگئی۔ ستمبر 1929 کو جرمنی کے شہر لیپزگLeipzig میں پیدا ہونے والی رُتھ کیتھرینا مارتھا فائو کے خاندان کو دوسری جنگ عظیم کے بعد روسی تسلط والے مشرقی جرمنی سے فرار پر مجبور ہونا پڑا۔
        مغربی جرمنی آکر رُتھ فائو نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کا آغاز کیا اور 1949 میں “مینز”Mainzسے ڈگری حاصل کی۔
        زندگی میں کچھ کرنے کی خواہش ڈاکٹر رُتھ کو ایک مشینری تنظیم “دختران قلب مریم”The Society of Daughters of the Heart of Mary تک لے آئی اور انہوں نے انسانیت کی خِدمت کو اپنا مَقصَد حَیّات قرار دے لیا۔
        ﺳَﻦ 1958 ﺀ میں روتھ فاؤ نے 30 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﮌﮪ ‏(ﺟﺰﺍﻡ‏) ﮐﮯ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ڈوکومینٹری ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮭﯽ۔
        (ﮐﻮﮌﮪ ﺍﭼﮭﻮﺕ ﻣﺮﺽ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﮔﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﭗ ﭘﮍﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﭨﻮﭦ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ‘
        ﮐﻮﮌﮬﯽ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺑﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ‘ ﮐﻮﮌﮬﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ‘ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺑﮍﯼ ﭘﭩﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﯿﭧ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘
        ﯾﮧ ﻣﺮﺽ ﻻ ﻋﻼﺝ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺟﺲ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﻮﮌﮪ ﻻﺣﻖ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻭﯾﺮﺍﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺴﮏ ﺳﺴﮏ ﮐﺮ ﺩﻡ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ 1960 ﺀ ﺗﮏ ﮐﻮﮌﮪ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﺮﯾﺾ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮧ ﻣﺮﺽ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﭘﮭﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﺨﯿﺮﺣﻀﺮﺍﺕ ﻧﮯ ﮐﻮﮌﮬﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮔﺎﮨﯿﮟ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﺍ ﺩﯼ ﺗﮭﯿﮟ ﯾﮧ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮔﺎﮨﯿﮟ ﮐﻮﮌﮬﯽ ﺍﺣﺎﻃﮯ ﮐﮩﻼﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺁﻧﮑﮫ ‘ ﻣﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮎ ﻟﭙﯿﭧ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺍﺣﺎﻃﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺒﺎً ﺗﻤﺎﻡ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﮌﮬﯽ ﺍﺣﺎﻃﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﮌﮪ ﮐﻮ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﻋﻼﺝ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮐﻮﮌﮪ ﯾﺎ ﺟﺰﺍﻡ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﻭ ﺁﭘﺸﻦ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﺳﺴﮏ ﮐﺮ ﺟﺎﻥ ﺩﮮ ﺩﮮ ﯾﺎ ﺧﻮدکشی کرلے۔)

        1960 کے دوران مشنری تنظیم نے ڈاکٹر رُتھ فائو کو پاکستان بھجوایا۔ یہاں آکر انہوں نے جذام کے مریضوں کی حَالت زَار دیکھی تو واپس نہ جَانے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے مَیکلوڈ روڈ کوڑھیوں کی بستی میں چھوٹا سے فری کلینک کا آغاز کیا جو ایک جھونپڑی میں قائم کیا گیا تھا۔ “میری ایڈیلیڈ لیپرسی سنٹر” کے نام سے قائم ہونے والا یہ شفاخانہ جذام کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے لواحقین کی مدد بھی کرتا تھا۔ اسی دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا۔ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر 1963 میں ایک باقاعدہ کلینک خریدا گیا جہاں کراچی ہی نہیں، پورے پاکستان بلکہ افغانستان سے آنے والے جذامیوں کا علاج کیا جانے لگا۔ کام میں اضافے کے بعد کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی چھوٹے چھوٹے کلینک قائم کیے گئے اور ان کے لیے عملے کو تربیت بھی ڈاکٹر رُتھ فائو ہی نے دی۔ جذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹر رُتھ نے پاکستان کے دورافتادہ علاقوں کے دورے بھی کیے اور وہاں بھی طِبّی عملے کو تربیت دی۔ پاکستان میں جَذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے انہوں نے پاکستان کے علاوہ جرمنی سے بھی بیش بہا عطیات جمع کیے اور کراچی کے علاوہ راولپنڈی میں بھی کئی ہسپتالوں میں لیپرسی ٹریٹمنٹ سنٹر قائم کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیشنل لیپرسی کنٹرول پروگرام ترتیب دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
        ڈاکٹر رُتھ فاو، ان کی ساتھی سِسٹَر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گِل کی بے لوث کاوشوں کے باعث پاکستان سے اس موذی مرض کا خاتمہ ممکن ہوا اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے 1996 میں پاکستان کو ایشیا کے اُن اَوّلِین مُمَالک میں شامل کیا جہاں جذام کے مرض پر کامیابی کے ساتھ قابو پایا گیا.
        Awards:
        1- 1969: Order of Merit (Germany)
        2- 1969: Sitara i Quaid i Azam
        3- In recognition of her service to the country, she was awarded Pakistani citizenship in 1988
        4- Hilal-i-Pakistan
        5- Ramon Magsaysay Award – 2002
        6- Nishan-i-Quaid-i-Azam (Aug.14th 2010)

        • Google Copy paste Totally

          • Aur Apko Lagta hai Inho Ne Ye Articles Pure Apne Hatho Se Likha hai :

          • Jalil Jahanzaib Khan

            Achi chez jhan se b mile COPY kro…

        • Muhammed Ovais Alam

          Kahan se copy paste kia hai?

          • I am Master of Searching (Mujhy to Khud Nahi Pata) Kaha Se Mila :
            Any Way : Pasting Acha Howa hai (Ap Fruits Khao) Qeemat Na Dekho

            • Muhammed Ovais Alam

              Mahawray ki bhi watt laga di :/

              • 2017 Main Wahi 1947 Ka Mahawara Parhao Ge Kiya :
                Kuch to NAYA Hona Chahyeh Dude :

    • Dil mein zinda rakhny sy acha hai k apny hissay ki shama jalaein inn k kam ko agy le kr jaein . Yun nh k her Article pr phla comment krny ka award jeet lein

      • Hum to Madad Karte hai Logo Ki : Kabhi Yaha to Kabhi Apne Jagah Par
        Logo Ko Kush Rakhna Bhi Ek Madad hai

  • Muhammad Zain

    Rest in peace.

  • Zehra Tanvir

    That’s really heart breaking, May her soul rest in peace!!!

  • ویلڈن……….. ڈاکٹر روتھ فاؤ

    یہ خاتون جرمنی کے شہر لائزگ کی رھنے والی تھی۔
    پیشے کے لحاظ سے یہ ڈاکٹر تھیں۔
    سن 1958ء کی بات ھے اس خاتون نے 30 سال کی عمر میں پاکستان میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی‘ کوڑھ اچھوت مرض
    ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے‘
    کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں‘
    یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔
    پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے‘
    یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا‘ ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں‘
    یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں‘ لوگ آنکھ‘ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے‘ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے‘
    ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے‘ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے‘ یا سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔
    _______
    یہ انتہائی جاذب نظر اور توانائی سے بھر پور عورت تھی اور یہ یورپ کے شاندار ترین ملک جرمنی کی شہری بھی تھی‘
    زندگی کی خوبصورتیاں اس کے راستے میں بکھری ہوئی تھیں لیکن اس نے اس وقت ایک عجیب فیصلہ کیا‘یہ جرمنی سے کراچی آئی اور اس نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جہاد شروع کر دیا
    اور یہ اس کے بعد واپس نہیں گئی‘ اس نے پاکستان کے کوڑھیوں کے لیے اپنا ملک‘ اپنی جوانی‘ اپنا خاندان اور اپنی زندگی تیاگ دی‘
    انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر چھوٹا سا سینٹر بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا‘
    کوڑھ کے مریضوں اور ان کے لواحقین نے اس فرشتہ صفت خاتون کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک کوڑھ کو ﷲ کا عذاب سمجھا جاتا تھا‘ لوگوں کا خیال تھا یہ گناہوں اور جرائم کی سزا ہے۔
    چنانچہ لوگ ان مریضوں کو گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے تھے‘ ان کے لیے پہلا چیلنج اس تصور کا خاتمہ تھا‘
    انھیں بیماری کو بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا اور اس کے بعد مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع ہوا‘یہ عظیم خاتون اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی
    جن کو ان کے سگے بھی چھوڑ گئے تھے۔اس کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی چنانچہ ﷲ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں شفا دے دی‘
    یہ مریضوں کا علاج کرتی اور کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہو جاتا‘
    اس دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا‘ ان دونوں نے کراچی میں 1963ء میں میری لپریسی سینٹر بنایا اور مریضوں کی خدمت شروع کردی‘
    ان دونوں نے پاکستانی ڈاکٹروں‘ سوشل ورکرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ٹریننگ کا آغاز بھی کر دیا ۔
    یوں یہ سینٹر 1965ء تک اسپتال کی شکل اختیار کر گیا‘ان ہوں نے جزام کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل ایکشن پروگرام شروع کیا‘
    ڈاکٹر کے دوستوں نے چندہ دیا لیکن اس کے باوجود ستر لاکھ روپے کم ہو گئے‘
    یہ واپس جرمنی گئی اور جھولی پھیلا کر کھڑی ہو گئی‘
    جرمنی کے شہریوں نے ستر لاکھ روپے دے دیے اور یوں پاکستان میں جزام کے خلاف انقلاب آ گیا۔
    وہ پاکستان میں جزام کے سینٹر بناتی چلی گئی یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 156 تک پہنچ گئی‘ ڈاکٹر نے اس دوران 60 ہزار سے زائد مریضوں کو زندگی دی۔
    یہ لوگ نہ صرف کوڑھ کے مرض سے صحت یاب ہو گئے بلکہ یہ لوگ عام انسانوں کی طرح زندگی بھی گزارنے لگے۔
    ان کی کوششوں سے سندھ‘ پنجاب‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے جزام ختم ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو ’’لپریسی کنٹرولڈ‘‘ ملک قرار دے دیا‘
    پاکستان ایشیاء کا پہلا ملک تھا جس میں جزام کنٹرول ہوا تھا۔
    حکومت نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی‘
    اسے ہلال پاکستان‘ ستارہ قائداعظم‘ ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔
    جرمنی کی حکومت نے بھی اسے آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ یہ تمام اعزازات‘ یہ تمام ایوارڈ بہت شاندار ہیں لیکن یہ فرشتہ صفت خاتون اس سے کہیں زیادہ ’’ڈیزرو‘‘ کرتی ہے‘
    جوانی میں اپنا وہ وطن چھوڑ دینا جہاں آباد ہونے کے لیے تیسری دنیا کے لاکھوں لوگ جان کی بازی لگا دیتے ہیں اور اس ملک میں آ جانا جہاں نظریات اور عادات کی بنیاد پر اختلاف نہیں کیا جاتا
    بلکہ انسانوں کو مذہب اور عقیدت کی بنیاد پر اچھا یا برا سمجھا جاتا ہے۔
    ان کا نام ڈاکٹر روتھ فاؤ ھے۔۔
    ڈاکٹر روتھ کا عین جوانی میں جرمنی سے اس پاکستان میں آ جانا اور اپنی زندگی اجنبی ملک کے ایسے مریضوں پر خرچ کر دینا جنھیں ان کے اپنے خونی رشتے دار بھی چھوڑ جاتے ہیں واقعی کمال ہے ۔
    ڈاکٹر روتھ اس ملک کے ہر اس شہری کی محسن ہے جو کوڑھ کا مریض تھا یا جس کا کوئی عزیز رشتے دار اس موذی مرض میں مبتلا تھایا جو اس موذی مرض کا شکار ہو سکتا تھا۔
    آج یہ عظیم خاتون کراچی میں انتقال کرگئیں
    ہم بحیثیت قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں
    respect And Salute for Her.

  • Eli Ehsan

    REST IN POWER You beautiful Soul….. </3

  • Muhammad Arif

    politicans o sirf bataihn karni atai hae…ya phr qaum ka paisay use ar ka bara bananaa

  • Jalil Jahanzaib Khan

    real human….no other words…